اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 260
اصحاب بدر جلد 3 260 حضرت عمر بن خطاب پر رکھ دیے اور دیر تک روتے رہے۔آپ صلی میں کم نے مڑ کر دیکھا تو حضرت عمر بن خطاب کو بھی روتے پایا۔آپ صلی علیہ ہم نے فرمایا اے عمر ! یہ وہ جگہ ہے جہاں آنسو بہائے جاتے ہیں۔462 463 عابس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اس کو چوما اور کہا میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی ہے نہ نقصان دے سکتا ہے نہ نفع۔اگر میں نے نبی صلی للی کم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے ہر گز نہ چومتا۔3 حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ طواف کر رہے تھے کہ آپ حجر اسود کے پاس سے گزرے اور آپ نے اس سے اپنی سوئی ٹھکر اکر کہا کہ میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے اور تجھ میں کچھ بھی طاقت نہیں مگر میں خدا کے حکم کے ماتحت تجھے چومتا ہوں۔یہی جذبۂ توحید تھا جس نے ان کو دنیا میں سر بلند کیا۔وہ خدائے واحد کی توحید کے کامل عاشق تھے۔وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے کہ اس کی طاقتوں میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔“ یعنی خدا تعالیٰ کی طاقتوں میں۔”بے شک وہ حجر اسود کا ادب بھی کرتے تھے مگر اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے اس کا ادب کرو، نہ اس لیے کہ حجر اسود کے اندر کوئی خاص بات ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر خد اتعالیٰ ہمیں کسی حقیر سے حقیر چیز کو چومنے کا حکم دے دے تو ہم اس کو چومنے کے لیے بھی تیار ہیں کیو نکہ ہم خدا تعالیٰ کے بندے ہیں کسی پتھر یا مکان کے بندے نہیں۔پس وہ ادب بھی کرتے تھے اور توحید کو بھی نظر انداز نہیں ہونے دیتے تھے اور یہی ایک سچے مومن کا مقام ہے۔ایک سچا مومن بیت اللہ کو ویسا ہی پتھروں کا ایک مکان سمجھتا ہے جیسے دنیا میں اور ہزاروں مکان پتھروں کے بنے ہوئے ہیں۔ایک سچا مومن حجر اسود کو ویسا ہی پتھر سمجھتا ہے جیسے دنیا میں اور کروڑوں پتھر موجود ہیں مگر وہ بیت اللہ کا ادب بھی کرتا ہے۔وہ حجر اسود کو چومتا بھی ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرے رب نے ان چیزوں کے ادب کرنے کا مجھے حکم دیا ہے مگر باوجود اس کے وہ اس مکان کا ادب کرتا ہے۔باوجود اس کے کہ وہ حجر اسود کو چومتا ہے پھر بھی وہ اس یقین پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے کہ میں خدائے واحد کا بندہ ہوں کسی پتھر کا بندہ نہیں۔یہی حقیقت تھی جس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اظہار فرمایا۔آپ نے حجر اسود کو سوٹی ماری اور کہا میں تیری کوئی حیثیت نہیں سمجھتا۔تو ویسا ہی پتھر ہے جیسے اور کروڑوں پتھر دنیا میں نظر آتے ہیں مگر میرے رب نے کہا ہے کہ تیرا ادب کیا جائے اس لیے میں ادب کرتا ہوں۔یہ کہہ کر وہ آگے بڑھے اور اس پتھر کو بوسہ دیا۔“464 حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی میں کم سے پوچھا جبکہ آپ طائف سے واپس آنے کے بعد جعرانہ میں تھے اور عرض کیا یار سول اللہ ! میں نے جاہلیت میں مسجد حرام میں ایک روز اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔آپ کا کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا: جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو۔بہر حال جو جائز نذر ہے وہ کسی بھی زمانے میں ہو اسے پورا کرناچاہیے۔