اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 259
اصحاب بدر جلد 3 259 حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی ای کم سے عمرہ ادا کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی یکم نے مجھے اجازت دی اور فرمایا لا تنسَنَا يَا أُخَى مِن دُعَائِكَ، اے میرے بھائی ! ہمیں اپنی دعا میں نہ بھولنا۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ یہ ایسا کلمہ ہے کہ اگر مجھے اس کے بدلے میں ساری دنیا بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہو۔ایک اور روایت میں یہ الفاظ اس طرح آتے ہیں کہ اَشْرِ كُنَا يَا أُخَيَ فِي دُعَائِكَ کہ اے میرے بھائی! ہمیں اپنی دعا میں شامل رکھنا۔459 حضرت عمر فکار سول اللہ صلی الہ عوام سے کس حد تک عاشقانہ تعلق تھا اس کا پتہ اس واقعہ سے ملتا ہے۔پہلے بھی ایک خطبہ میں بیان ہو چکا ہے۔اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی علی کرم فوت ہو گئے تو یہ خبر سن کر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللی علم فوت نہیں ہوئے۔حضرت عائشہ کہتی تھیں حضرت عمر کہا کرتے تھے بخدا میرے دل میں یہی بات آئی تھی اور انہوں نے کہا اللہ آپ کو ضرور ضرور اٹھائے گا۔یعنی آنحضرت صلی ای کم کو ضرور اٹھائے گا تا بعض آدمیوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے۔بہر حال پھر جب حضرت ابو بکر آئے تو انہوں نے سورہ آل عمران کی آیت 145 پڑھی اور حضرت عمررؓ کو حقیقت کو سمجھنے کا کہا اور پھر معاملہ ختم ہوا۔10 460 اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: آنحضرت کی وفات پر صحابہ کا اجماع بھی اسی مسئلہ پر ہوا ہے کہ گل انبیاء وفات پاگئے ہیں اور اس کی یہ وجہ ہوئی کہ آپ کی وفات پر حضرت عمر کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ آپ ابھی زندہ ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے اور آپ کو اپنے اس اعتقاد پر اس قدر یقین تھا کہ آپ اس شخص کی گردن اڑانے کو تیار تھے جو اس کے خلاف کہے لیکن حضرت صدیق جب تشریف لائے اور آپ نے گل صحابہ کے سامنے یہ آیت پڑھی کہ وَمَا مُحَمَّد اللَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ تو حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرے پاؤں کانپ گئے اور میں صدمہ کے مارے زمین پر گر گیا اور صحابہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یوں معلوم ہوا کہ جیسے یہ آیت آج ہی اتری ہے اور ہم اس دن اس آیت کو بازاروں میں پڑھتے پھرتے تھے۔پس اگر کوئی نبی زندہ موجود ہو تا تو یہ استدلال درست نہیں تھا کہ جب سب نبی فوت ہو گئے تو آپ کیوں فوت نہ ہوتے۔حضرت عمرؓ کہہ سکتے تھے کہ آپ کیوں دھوکا دیتے ہیں۔حضرت مسیح ابھی زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔وہ زندہ ہیں تو کیوں ہمارے آنحضرت صلی للی کم زندہ نہیں رہ سکتے ؟ مگر سب صحابہ کا سکوت اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سب صحابہ کا یہی مذہب تھا کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔461 اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بیان فرمایا ہے وہ تفصیل میں پہلے ایک خطبہ میں بیان کر چکا ہوں۔حضرت عمرؓ کس طرح رسول اللہ صلی للی کم کی پیروی کرتے تھے اس بارے میں حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی الیم نے حجر اسود کی طرف منہ کیا۔پھر اپنے ہونٹ اس