اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 246

اصحاب بدر جلد 3 246 حضرت عمر بن خطاب کے ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا اور میں جانتا ہوں کہ نبی کریم صلی این ولیم سے بہت دفعہ میں یہ سنا کرتا تھا، آپ فرمایا کرتے تھے کہ ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وغمر۔میں اور ابو بکر اور عمر گئے۔میں اور ابو بکر اور عمر داخل ہوئے۔میں اور ابو بکر اور عمر نکلے۔412 یعنی مختلف واقعات بیان کرتے ہوئے آپ یہ فقرے فرمایا کرتے تھے۔جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب کو غسل اور کفن دے دیا گیا اور آپ کو چارپائی پر رکھ دیا گیا تو حضرت علی نے ان کے پاس کھڑے ہو کر آپ کی تعریف فرمائی اور کہا اللہ کی قسم! مجھے اس چادر میں ڈھکے ہوئے انسان سے زیادہ روئے زمین پر کوئی شخص پسند نہیں کہ میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ خدا سے ملوں۔413 ابو مخلد سے روایت ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی علی نیم فوت نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے جان لیا کہ رسول اللہ صلی یام کے بعد ابو بکر ہم میں افضل ہیں اور حضرت ابو بکر فوت نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے جان لیا کہ حضرت ابو بکر کے بعد ہم میں حضرت عمر سب سے افضل ہیں۔414 زید بن وهب بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس آئے۔آپ حضرت عمر کا ذکر کرتے ہوئے اتنا روئے کہ آپ کے آنسو گرنے سے کنکر بھی تر ہو گئے۔پھر آپ نے کہا حضرت عمرؓ اسلام کے لیے حصن حصین تھے۔لوگ اس میں داخل ہوتے اور باہر نہ نکلتے۔ایک مضبوط قلعہ تھے لوگ اس میں داخل ہوتے اور باہر نہ نکلتے۔جب آپ کی وفات ہوئی تو اس قلعہ میں دراڑ پڑ گئی اور لوگ اسلام سے نکل رہے ہیں۔15 ابو وائل سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ اگر حضرت عمر کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور باقی تمام انسانوں کا علم دوسرے پلڑے میں تو حضرت عمر کا پلڑا بھاری ہو گا۔ابو وائل نے کہا کہ میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہوں نے کہا خدا کی قسم ! ایسا ہی ہے۔عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس سے بھی بڑھ کر کہا کہ میں نے پوچھا کیا کہا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جب حضرت عمر کی وفات ہو گئی تو انہوں نے یہ کہا کہ علم کے دس میں سے نو حصے جاتے رہے۔416 حضرت انس نے کہا کہ جب حضرت عمر بن خطاب کی شہادت ہوئی تو حضرت ابو طلحہ نے کہا: عرب میں کوئی شہری یا بد وی گھر ایسا نہیں مگر اس کے گھر کو حضرت عمر کی شہادت سے نقصان پہنچا ہے۔417 یعنی ہر ایک کی اتنی مدد کرتے تھے کہ یقینا ان کو نقصان پہنچے گا۔یہ لوگ متاثر ہوں گے۔حضرت عبد اللہ بن سلام نے حضرت عمرؓ کے جنازے کے بعد حضرت عمر کی چارپائی کے پاس کھڑے ہو کر کہا اے عمر! آپ کیا ہی عمدہ اسلامی بھائی تھے۔حق کے لیے سخی اور باطل کے لیے بخیل تھے۔رضامندی کے اظہار کے وقت آپ راضی ہوتے اور غصہ کے وقت آپ غصہ کرتے۔پاک نظر