اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 245

اصحاب بدر جلد 3 245 حضرت عمر بن خطاب نے اس بات کے لئے بڑی تڑپ ظاہر کی کہ آپ کو رسول کریم صلی علی ایم کے قدموں میں دفن ہونے کی جگہ مل جائے۔چنانچہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہلا بھیجا کہ اگر اجازت دیں تو مجھے آپ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔حضرت عمر وہ انسان تھے جن کے متعلق عیسائی مؤرخ بھی لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایسی حکومت کی جو دنیا میں اور کسی نے نہیں کی۔وہ رسول کریم صلی ا یکم کو گالیاں دیتے ہیں “ یعنی عیسائی مؤرخین ”مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہیں۔ایسا شخص ہر وقت کی صحبت میں رہنے والا مرتے وقت یہ حسرت رکھتا ہے کہ رسول کریم صلی ال نیلم کے قدموں میں “ جو آنحضرت صلی الم کی صحبت میں رہا مرتے وقت بھی یہ حسرت کرتا ہے کہ رسول کریم صلی الیکم کے قدموں میں اسے جگہ مل جائے۔اگر رسول کریم ملی ایم کے کسی فعل سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی کہ آپ خدا کی رضا کے لئے کام نہیں کرتے تو کیا حضرت عمرؓ جیسا انسان اس درجہ کو پہنچ کر کبھی یہ خواہش کرتا کہ آپ کے قدموں میں جگہ پائے۔“ پس یہ آنحضرت صلی علیہ کہ کا مقام ہے جس کی وجہ سے حضرت عمر کی بھی خواہش ہوئی کہ آپ کے 409❝ قدموں میں جگہ پائیں۔حضرت عمر کی وفات۔حضرت عمر کی وفات کے وقت کیا عمر تھی؟ اس بارے میں بھی مختلف رائے ہیں۔سن پیدائش کے متعلق مختلف روایات ہیں۔اس لیے آپ کی وفات کے وقت عمر کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔چنانچہ تاریخ طبری، اسد الغابہ، البدایۃ والنھایہ ، ریاض النظرة، تاریخ الخلفاء کی مختلف روایات میں آپ کی عمر ترین سال، پچپن سال، ستاون سال، انسٹھ سال، اکسٹھ سال، تریسٹھ سال اور پینسٹھ سال بیان ہوتی ہے۔110 البتہ صحیح مسلم اور ترمذی کی روایت کے مطابق آپ کی عمر تریسٹھ سال بیان کی گئی ہے۔حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ وفات کے وقت رسول اللہ صلی علیکم کی عمر تریسٹھ برس تھی۔حضرت ابو بکر کی وفات کے وقت عمر تریسٹھ برس تھی اور حضرت عمر کی بھی وفات کے وقت عمر تریسٹھ برس تھی۔411 حضرت عمر کی وفات پر بعض صحابہ کرام کے تاثرات کے بارے میں یہ بیان ہوا ہے۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر کا جسد مبارک جنازے کے لیے رکھا گیا اور لوگ ان کے گرد کھڑے ہو گئے۔ان کے اٹھانے سے پہلے دعا کرنے لگے۔پھر نماز جنازہ پڑھنے لگے اور میں بھی ان میں موجود تھا تو ایک شخص نے میرا کندھا پکڑ کر چونکا دیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت علی بن ابوطالب ہیں۔آپ نے حضرت عمر کے لیے رحمت کی دعاکی اور کہا کہ آپ نے کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر مجھے اس لحاظ سے پیارا ہو کہ میں اس کے اعمال جیسے عمل کرتے ہوئے اللہ سے ملوں۔بخدا میں یہی سمجھتا تھا کہ اللہ آپ کو بھی آپ کے ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا یعنی حضرت عمر کو بھی آپ