اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 230

اصحاب بدر جلد 3 230 حضرت عمر بن خطاب نے پوچھا ان کے محافظ و در بان کہاں ہیں ؟ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم نے بتایا کہ ان کا کوئی محافظ ہے نہ دربان ہے اور نہ کوئی سیکر ٹری ہے ، نہ کوئی دیوان ہے تو اس نے کہا کہ انہیں تو نبی ہونا چاہیے۔بہر حال پھر وہ مسلمان ہو گیا اور حضرت عمرؓ نے اس کے لیے دو ہزار مقرر کر دیے اور اسے مدینہ میں قیام کرایا۔طبقات ابن سعد میں نافع کی سند سے ایک روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن نے وہ چھری دیکھی جس کے ذریعہ سے حضرت عمررؓ کو شہید کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا: میں نے گذشتہ روز یہ چھری هرمزان اور جُفِّینہ کے پاس دیکھی تھی تو میں نے پوچھا: تم اس چھری سے کیا کرتے ہو تو ان دونوں نے کہا: ہم اس کے ذریعہ گوشت کاٹتے ہیں کیونکہ ہم گوشت کو چھوتے نہیں۔اس پر حضرت عبید اللہ بن عمرؓ نے حضرت عبدالرحمن سے پوچھا: کیا آپ نے یہ چھری ان دونوں کے پاس دیکھی تھی؟ انہوں نے کہا ہاں۔پس حضرت عبید اللہ بن عمرؓ نے اپنی تلوار پکڑی اور دونوں کے پاس آئے اور انہیں قتل کر دیا۔حضرت عثمان نے حضرت عبید اللہ کو بلا بھیجا۔جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: آپ کو ان دونوں افراد کے قتل کرنے پر کس چیز نے بر انگیختہ کیا جبکہ وہ دونوں ہماری امان میں ہیں۔یہ سنتے ہی حضرت عبید اللہ نے حضرت عثمان کو پکڑ کر زمین پر گرا دیا حتی کہ لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے حضرت عثمان کو حضرت عبید اللہ سے بچایا۔جب حضرت عثمان نے انہیں بلوایا تھا تو انہوں نے یعنی حضرت عبید اللہ نے تلوار حمائل میں کر لی تھی لیکن حضرت عبد الرحمن نے انہیں سختی کے ساتھ کہا کہ اسے اتار دو تو انہوں نے تلوار اتار کر رکھ دی تھی۔سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر شہید کر دیے گئے، یہ ایک روایت ہے جو میں نے پہلے بیان کی۔کہاں تک یہ سچی ہے ، حضرت عثمان والا قصہ کہاں تک صحیح ہے اللہ بہتر جانتا ہے لیکن بہر حال قتل کرنے کا واقعہ اور جگہ بھی بیان ہوا ہے۔حضرت عمر شہید کر دیے گئے تو حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر نے کہا: میں حضرت عمرؓ کے قاتل ابولولوہ کے پاس سے گزرا تھا جبکہ جُفّینہ اور هُرمزان بھی اس کے ساتھ تھے اور وہ سر گوشی کر رہے تھے۔جب میں اچانک ان کے پاس پہنچا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور ایک خنجر ان کے مابین گر پڑا۔اس کے دو پھل تھے۔اس کا دستہ اس کے وسط میں تھا۔پس دیکھو کہ جس خنجر سے حضرت عمر کو شہید کیا گیا ہے وہ کیسا تھا؟ انہوں نے دیکھا تو وہ خنجر بالکل ویسا ہی تھا جیسے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر نے بیان کیا تھا۔جب حضرت عبید اللہ بن عمرؓ نے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر سے یہ سنا تو تلوار لے کر نکل پڑے حتی کہ ھرمزان کو آواز دی۔جب وہ ان کے پاس آیا تو اسے کہا میرے ساتھ چلو حتی کہ ہم اپنے گھوڑے کو دیکھیں اور خود اس سے پیچھے ہٹ گئے۔جب وہ آپ کے آگے چلنے لگا تو انہوں نے اس پر تلوار کا وار کیا۔حضرت عبید اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب اس نے تلوار کی حدت محسوس کی تو اس نے لا الہ الا