اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 229
اصحاب بدر جلد 3 229 حضرت عمر بن خطاب بحث نہیں کی کہ یہ ایک سازش تھی۔البتہ تاریخ وسیرت کی ایک اہم کتاب البدایہ والنہایہ میں صرف اتنا ملتا ہے کہ شبہ کیا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے قتل میں ھرمزان اور جھینہ کا ہاتھ تھا۔184 چنانچہ اسی شبہ پر حضرت عمر کے سوانح نگار سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اس کو باقاعدہ ایک سازش قرار دیتے ہیں۔انہی مصنفین میں سے ایک محمد رضا صاحب اپنی کتاب سیرت عمر فاروق میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمر کسی بالغ قیدی کو مدینہ میں آنے کی اجازت نہیں دیا کرتے تھے حتی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ والی کوفہ نے ان کے نام ایک خط لکھا کہ ان کے پاس ایک غلام ہے جو بہت ہنر مند ہے اور وہ اس کو مدینہ میں آنے کی اجازت کے طلبگار ہیں اور حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کہا کہ وہ بہت کام جانتا ہے جس میں لوگوں کے لیے فائدے ہیں۔وہ لوہار ہے۔نقش و نگار کا ماہر ہے۔بڑھتی ہے۔حضرت عمر نے حضرت مغیرہ کے نام خط لکھا اور انہوں نے اسے مدینہ بھیجنے کی اجازت دے دی۔حضرت مغیر گانے اس پر ماہانہ سو در ہم ٹیکس مقرر کیا۔وہ حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور خراج زیادہ ہونے کی شکایت کی۔حضرت عمرؓ نے پوچھا: تم کون سے کام اچھی طرح کر لیتے ہو ؟ اس نے آپ کو وہ کام بتائے جس میں اسے اچھی خاصی مہارت حاصل تھی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: تمہارے کام کی مہارت کے حوالے سے تو تمہارا خراج کوئی زیادہ نہیں ہے۔وہ آپ سے ناراضی کی حالت میں واپس چلا گیا۔حضرت عمر نے چند روز توقف کیا۔ایک دن وہی غلام آپ کے پاس سے گزرا تو آپ نے اسے بلا کر کہا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم ہو اسے چلنے والی چکی بہت اچھی بنا سکتے ہو۔وہ غلام غصے اور ناپسندیدگی کے عالم میں حضرت عمرؓ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا کہ میں آپ کے لیے ایک ایسی چکی بناؤں گا کہ لوگ اس کا چرچا کرتے رہیں گے۔جب وہ غلام مڑا تو آپ اپنے ساتھ والے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اس غلام نے مجھے ابھی ابھی دھمکی دی ہے۔چند دن گزرے کہ ابو لُؤْلُوں نے اپنی چادر میں دو دھاری والا خنجر چھپارکھا تھا جس کا دستہ اس کے وسط میں تھا اور اس نے حضرت عمر پر وار کیا جیسا کہ واقعہ شہادت میں بیان ہو چکا ہے۔اس کا ایک وار ناف کے نیچے لگا تھا۔ابولُؤْلُؤًہ کو حضرت عمرؓ سے ایک لحاظ سے کینہ اور بغض بھی تھا کیونکہ عربوں نے اس کے علاقے کو فتح کر لیا تھا اور اسے قیدی بنالیا تھا اور اس کے بادشاہ کو ذلیل و خوار ہونے کی حالت میں جلا وطن ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔وہ جب بھی کسی چھوٹے قیدی بچے کو دیکھتا تو ان کے پاس آکر ان کے سروں پر ہاتھ پھیر تا اور رو کر کہتا کہ عربوں نے میرا جگر گوشہ کھا لیا۔جب ابولولوة نے حضرت عمرؓ کو شہید کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تو اس نے بڑے اہتمام سے دو دھاری خنجر بنایا، اسے تیز کیا، پھر اسے زہر آلود کیا، پھر اسے لے کر ھرمزان کے پاس آیا اور کہا تمہارا اس خنجر کے بارے میں کیا خیال ہے۔اس نے کہا میر اتو خیال ہے کہ تو اس کے ذریعہ جس پر بھی وار کرے گا اسے قتل کر دے گا۔ھرمزان فارسیوں کے سپہ سالاروں میں سے تھا۔مسلمانوں نے اسے تنتر کے مقام پر قید کر لیا تھا اور انہوں نے اسے مدینہ بھیج دیا تھا۔جب اس نے حضرت عمر کو دیکھا تو اس