اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 198
محاب بدر جلد 3 198 حضرت عمر بن خطاب نہ تھا کیونکہ جزیرے سے حمص آنے والوں کی تعداد تیس ہزار تھی اور وہ فوج اس کے علاوہ تھی جو ہر قل نے بحری جہازوں کے ذریعہ انطاکیہ بھیجی تھی۔حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ ان کے آدمی شام کے ہر شہر میں وہاں کے باشندوں سے نمٹ رہے ہیں۔اگر وہ ان شہروں کو چھوڑ کر حمص چلے گئے تو سارے شام کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔اس لیے انہوں نے قعقاع کو کوفہ سے روانگی کا حکم دینے کے بعد اور بھی احکام صادر کیے جو ان کے تدبر اور دوراندیشی کے آئینہ دار تھے۔جزیرے سے حمص آنے والے قبائل نے یہ جرات اس لیے کی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ ان کی بستیاں اسلامی حملوں کی زد سے باہر ہیں۔پس اگر ان بستیوں پر حملہ کر دیا جائے تو یہ قبائل الٹے پاؤں واپس ہو جائیں گے اور ابو عبیدہ اور ان کی فوجوں پر جو دباؤ بڑھ رہا تھا اس میں تخفیف ہو جائے گی۔اس لیے حضرت عمرؓ نے سعد بن ابی وقاص کے خط میں لکھا کہ شہیل بن عدی کی سر کردگی میں ایک فوج جزیرہ کے شہر رقہ میں بھیج دو۔جزیرہ کے لوگوں نے ہی رومیوں کو حمص پر حملہ کے لیے ابھارا ہے اور ان سے پہلے قرقیسیا کے باشندے یہی حرکت کر چکے ہیں۔دوسری فوج عبد اللہ بن عثبان کی سر کردگی میں نصیبین پر چڑھائی کے لیے روانہ کر دو۔یہاں کے باشندوں کو بھی اہل قرقیسیا نے حملہ کے لیے اکسا یا تھا۔پھر حران جو جزیرے کا پایہ تخت تھا اور دُھا جا کر وہاں سے دشمن کو نکال دیں۔حران اور ڈھاء جاکر وہاں سے دشمن کو نکال دیں۔ایک تیسری فوج ولید بن عقبہ کی کمان میں جزیرہ کے عیسائی عرب قبائل ربیعہ اور تنوح کی جانب روانہ کرو اور عیاض بن غنم کو اسی جزیرہ کے محاذ پر بھیجو۔اگر جنگ ہو تو دوسرے سالارانِ فوج عیاض بن غنم کے ماتحت ہوں گے۔چنانچہ جب یہ سب کے سب سپہ سالار روانہ ہوئے تو اہل جزیرہ حمص کا محاصرہ چھوڑ کر جزیرے کو چل دیے۔حضرت عمر کی یہ پالیسی، سٹریٹجی تھی، حکمت عملی تھی کہ بجائے وہاں اکٹھے ہوں کچھ فوجیں جن علاقوں سے یہ فوجیں اکٹھی ہوئی تھیں ان شہروں اور علاقوں میں بھیج دو جس کا نتیجہ یہ ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان تو ہمارے علاقوں میں اور جزیروں میں اور شہروں میں آرہے ہیں تو یہ لوگ پھر محاصرہ چھوڑ کے وہاں سے چلے گئے۔لیکن حضرت عمرؓ نے پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا۔انہوں نے اندازہ فرما لیا تھا کہ بار بار شکستیں کھانے کے بعد ہر قل نے یہ جو بحری راستے سے فوجیں بھیجی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے اپنی قوت پر اعتماد ہے اور وہ یقین رکھتا ہے کہ اس میں تنہا مسلمانوں کے مقابلہ کی قدرت ہے۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسکندریہ سے جہازوں پر آنے والی فوجوں کا کمانڈر اس نے اپنے بیٹے حسطنطین کو بنایا ہے۔رومیوں سے مقابلہ اور پھر قیصر کبھی شام کا رخ نہ کر سکا بنایا حضرت عمرؓ کی پلاننگ کے مطابق قعقاع بن عمر و اپنے ساتھ چار ہزار شہسواروں کو لے کر حمص روانہ ہوئے۔سہیل بن عدی، عبد اللہ بن عثبان، ولید بن عقبہ اور عیاض بن غنم اہل جزیرہ کی گوشمالی