اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 195

اصحاب بدر جلد 3 195 حضرت عمر بن خطاب نے جب اذان دی تو تمام صحابہ کو رسول اللہ صلی علیہم کا زمانہ یاد آگیا اور ان پر اتنی رقت طاری ہوئی کہ وہ روتے روتے بیتاب ہو گئے۔حضرت عمر بھی اتنے بیتاب ہوئے کہ ہچکی بندھ گئی اور دیر تک اس کا اثر رہا۔بیت المقدس سے واپسی کے وقت حضرت عمرؓ نے تمام ملک کا دورہ کیا اور سرحدوں کا معائنہ کر کے ملک کی حفاظت کا انتظام کیا۔334 ” بیت المقدس تشریف لانے سے حضرت عمرؓ کا جو مقصد تھا وہ پورا ہو گیا۔چنانچہ جس رستے سے آپ تشریف لائے تھے اسی رستے سے مدینہ واپس ہو گئے۔جابیہ پہنچ کر فاروق اعظم حضرت عمر نے کچھ دن قیام فرمایا اور اس کے بعد اپنے گھوڑے پر روانہ ہو گئے۔امیر المومنین نے فلسطین میں جو کام کیسے تھے ان کی اطلاع حضرت علی اور دوسرے مسلمانوں کو مل چکی تھی۔چنانچہ مدینے کے باہر انہوں نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔335 336 رضوو حضرت عمر نمسجد نبوی میں داخل ہوئے اور منبر کے پاس دور کعت نماز ادا کی پھر منبر پر چڑھے اور لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور نبی کریم صلی الیکم پر درود بھیجنے کے بعد فرمایا۔اے لوگو! یقینا اللہ نے اس امت پر احسانات کیسے ہیں تا کہ وہ لوگ اس کی حمد بیان کریں اور اس کا شکر ادا کریں۔اللہ نے اس امت کے پیغام کو عزت دی اور ان کو متحد کر دیا اور ان کی فتح ظاہر کی اور دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کی اور اسے عزت بخشی اور اسے زمین میں تمکنت عطا فرمائی اور اسے مشرکین کے علاقوں اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا۔پس ہر وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہو وہ تمہیں اور زیادہ عطا کرے گا اور ان نعمتوں پر اللہ کی حمد بیان کرو جو اس نے تم پر نازل کی ہیں۔وہ ہمیشہ ان نعمتوں کو تم پر قائم رکھے گا۔اللہ ہمیں اور تمہیں شکر گزاروں میں سے بنا دے۔اس کے بعد حضرت عمر منبر سے نیچے اتر گئے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول بیان فرماتے ہیں کہ : یروشلم کے محاصرہ میں پادریوں نے کہا تمہارا خلیفہ آوے تو اسے ہم دخل دے دیں“ دخل دے دیں گے ” حضرت عمر اسی سادگی میں روانہ ہوئے۔غلام کے ساتھ باری باری اونٹ پر چڑھتے آتے تھے۔ابو عبیدہ نے عرض کیا آپ کپڑے بدل لیں۔گھوڑے پر سوار ہوں۔آپ نے یہ عرض مان لی مگر تھوڑی دور جا کر گھوڑے سے اتر بیٹھے۔کہا میر اوہی لباس اور اونٹ لاؤ۔آپ جب گئے تو بطریق وغیرہ نے رعب میں آکر چابیاں پھینک دیں۔کہا اس سپہ سالار کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے۔“337 اپنے رنگ میں حضرت خلیفہ اول نے بیان کیا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ اس بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ یروشلم میں ایک مسجد ہے وہ مقام یہودیوں کے لئے ایسا ہی متبرک ہے جیسا ہمارے لئے خانہ کعبہ۔مسلمانوں کے زمانہ میں جب یروشلم فتح ہوا تو عیسائیوں نے چاہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس مقام کے اندر آکر نماز پڑھیں مگر آپ نے فرمایا: وو