اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 163 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 163

اصحاب بدر جلد 3 163 حضرت عمر بن خطاب عدی اور عبد اللہ بن عبد اللہ بھی لشکروں سمیت ان کے ساتھ مل گئے تھے۔مسلمانوں نے سندھ کے بادشاہ کے خلاف متحد ہو کر جنگ کی اور اسے شکست دی۔حکم بن عمرو نے صحار عبدی کے ہاتھ فتح کی خبر اور مالِ غنیمت بھیجا اور مالِ غنیمت میں حاصل شدہ ہاتھیوں کے بارے میں ہدایت طلب کی۔جب حضرت عمر کو فتح کی بشارت پہنچی تو حضرت عمر نے اس سے مکر ان کی زمین کے بارے میں پوچھا۔اس نے کہا اے امیر المومنین! اس کے نرم میدانوں کی زمین بھی پہاڑوں کی طرح سخت ہے اور وہاں پانی کی سخت قلت ہے۔اس کے پھل خراب ہیں اور وہاں کے دشمن بہت دلیر ہیں اور وہاں بھلائی کے مقابلے میں برائی بہت زیادہ ہے۔وہاں کثیر تعداد بھی تھوڑی معلوم ہوتی ہے اور قلیل تعد اد ضائع ہو جاتی ہے اور اس کا پچھلا حصہ تو اس سے بھی بدتر ہے۔حضرت عمرؓ نے اس کے اس انداز گفتگو پہ فرمایا کہ کیا تم قافیہ پیمائی کر رہے ہو یا واقعی صورت حال کی خبر دے رہے ہو۔اس نے اس پر کہا کہ میں صحیح خبر آپ تک پہنچارہا ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر تم صحیح بتلارہے ہو تو بخد امیر الشکر وہاں حملہ نہیں کرے گا۔چنانچہ آپ نے حکم بن عمر و اور حضرت سُھیل کو یہ حکم تحریر فرمایا اور یہ حکم تحریر فرما کر روانہ کیا کہ تم دونوں کے لشکروں میں سے کوئی بھی مکر ان سے آگے پیش قدمی نہ کرے اور دریا کے اس پار کے علاقے تک محدودر ہے۔نیز آپ نے یہ بھی حکم دیا کہ ہاتھیوں کو اسلامی سر زمین پر ہی فروخت کر دیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والے مال کو مسلمان لشکروں میں تقسیم کر دیا جائے۔295 اس جنگ کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں وہ طبری سے لی گئی ہیں۔اس جنگ کی بابت علامہ شبلی نے ایک نوٹ بھی دیا ہے کہ فتوحات فاروقی کی اخیر حد یہی مکران ہے لیکن یہ طبری کا بیان ہے۔مؤرخ بلاذری کی روایت ہے کہ دیبل کے نشیبی علاقوں اور تھانہ تک فوجیں آئیں۔اگر یہ صحیح ہے تو حضرت عمرؓ کے عہد میں اسلام کا قدم سندھ و ہند میں بھی آچکا تھا۔نیز وہ حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ آج کل مکر ان کا نصف حصہ بلوچستان کہلاتا ہے۔اگر چہ مورخ بلاذری فتوحات فاروقی کی حد سندھ کے شہر دیبل تک لکھتا ہے مگر طبری نے مکر ان کو ہی اخیر حد قرار دیا ہے۔296 بقاع کی مہم کتب تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر کے دور میں دمشق کا محاصرہ کئی ماہ تک جاری رہا اور ان کی وفات کے کچھ عرصہ کے بعد اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔بہر حال کیونکہ یہ حضرت ابو بکر کے دور کی ہے اس لیے اس جنگ کی تفصیلات جب حضرت ابو بکر کا ذکر ہو گا تو وہاں پیش کی جائیں گی انشاء اللہ۔297 دمشق کی فتح کے بعد جو واقعات ہیں وہ بیان کرتا ہوں۔دمشق کی فتح ہو جانے کے بعد ابو عبیدہ نے خالد بن ولید کو بقاع کی مہم پر روانہ کیا۔بقاع: دِمَشْق، بَعْلَبَك اور حمص کے درمیان ایک وسیع