اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 162
اصحاب بدر جلد 3 162 حضرت عمر بن خطاب اونٹ بھیڑ بکریاں ملیں تو انہوں نے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کی قیمت لگائی۔ان کی قیمت میں عرب کے اونٹوں سے بڑے ہونے کے باعث ان میں اختلاف پیدا ہوا۔چنانچہ اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے اس کے بارے میں حضرت عمررؓ کو لکھا گیا۔حضرت عمرؓ نے ان کی طرف لکھا کہ عربی اونٹ کی گوشت کے مطابق قیمت لگائی جاتی ہے اور یہ اونٹ بھی اسی کی مانند ہیں۔اگر وہ تمہاری رائے کے مطابق بڑھ کر ہے تو اس کی قیمت میں اضافہ کر دو۔جو مال ہاتھ آیا تھا اس کے مطابق اس کے جانوروں کی قیمت لگائی جارہی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں حضرت عبد اللہ بن بُدیل بن ورقاء خُزاعی نے کرمان کو فتح کیا۔پھر فتح کرمان کے بعد وہ طبسین آئے۔پھر وہاں سے حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے طبسین کو فتح کر لیا ہے۔آپ مجھے یہ دونوں علاقے جاگیر میں دے دیں۔جب حضرت عمرؓ نے یہ دونوں علاقے ان کو جاگیر میں دینے کا ارادہ کیا تو کسی نے آپ سے کہا کہ یہ دونوں علاقے بہت بڑے اضلاع ہیں اور خراسان کے دروازے ہیں۔اس پر آپ نے ان کو یہ دونوں علاقے جاگیر میں دینے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔293 فتح سجستان، یہ بھی 123 ہجری کی ہے۔سجستان خراسان سے بڑا علاقہ ہے اور اس کی سرحدیں دور درواز علاقوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔یہ علاقہ سندھ اور دریائے بلخ کے درمیان تھا۔اس کی سرحدیں بہت دشوار گزار تھیں اور آبادی بھی بہت زیادہ تھی۔اس سجستان کو ایرانی سیستان بھی کہا جاتا ہے یا ایرانی لوگ اس کو سیستان کہتے ہیں۔مشہور ایرانی پہلوان رستم اسی علاقے کا رہنے والا تھا۔یہ کرمان کے شمال میں واقع تھا اس کا صدر مقام زرنج تھا۔قدیم زمانے میں یہ بہت بڑا علاقہ تھا اور حضرت معاویہ کے زمانے میں یہ بہت اہم علاقہ تھا۔یہاں کے لوگ قندھار ترک اور دوسری قوموں سے جنگ کرتے رہتے تھے۔عاصم بن عمرو نے سجستان کا رخ کیا اور عبد اللہ بن نمیر بھی فوج لے کر اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔اہل سجستان سے ان کے قریبی علاقے میں مقابلہ ہوا اور مسلمانوں نے انہیں شکست دی اور اہل سجستان بھاگ گئے۔چنانچہ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا اور زرنج مقام پر ان کا محاصرہ کر لیا گیا اور ساتھ ساتھ مسلمان جہاں جہاں ممکن ہوا مختلف علاقوں کو بھی فتح کرتے گئے۔بالآخر اہل سجستان نے زرنج اور دیگر مفتوحہ علاقوں کے بارے میں مصالحت کر لی اور باقاعدہ مسلمانوں سے معاہدہ منظور کرایا اور اپنے صلح نامہ میں یہ شرط منظور کرالی کہ ان کے جنگل محفوظ چراگاہوں کی طرح سمجھے جائیں گے۔اس لیے جب مسلمان وہاں سے گزرتے تھے تو ان کے جنگلوں سے بچ کر نکلتے تھے کہ وہ کہیں انہیں نقصان پہنچا کر عہد شکنی کے مر تکب نہ ہو جائیں۔اس حد تک مسلمان احتیاط کرتے تھے۔بہر حال اہل سجستان خراج دینے پر راضی ہو گئے اور مسلمانوں نے ان کی حفاظت کی ذمہ داری کو قبول کر لیا۔294 فتح مکران، یہ بھی 123 ہجری کی ہے۔حکم بن عمرو کے ہاتھوں مگر ان ( آج کل اسے مگر ان کہا جاتا ہے۔پرانی تاریخوں میں مگر ان لکھا ہوا ہے، یہ فتح ہوا۔لیکن پھر شهاب بن مُخَارِقُ، سُهَيل بن