اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 158

اصحاب بدر جلد 3 158 حضرت عمر بن خطاب پورا کر کے دکھائے۔تم اپنی حالت میں کوئی تغیر و تبدل نہ کر ناور نہ اللہ تمہیں تمہارے علاوہ لوگوں سے بدل دے گا۔اگر بدل دو گے اپنے دین کو بھول جاؤ گے ، جو احکامات ہیں ان پر عمل نہیں کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا۔پھر فرمایا: مجھے اس وقت امت مسلمہ کی تباہی اور بربادی کا صرف تمہی سے اندیشہ ہے۔مجھے یہ خطرہ نہیں کہ دشمن مسلم امہ کو تباہ کرے گا بلکہ مسلمانوں کی مسلم امہ کی تباہی و بربادی کا صرف تمہی مسلمانوں سے ہی اندیشہ ہے اور خوف ہے۔286 اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہی بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔مسلمان ہی مسلمان کی گردنیں مار رہا ہے۔ان کو ختم کر رہا ہے۔ایک دوسرے پر حملے کر رہا ہے۔ملک ملک پر چڑھائی کر رہے ہیں اور کہنے کو یہ جہاد ہے لیکن مسلمان مسلمانوں کو قتل کر رہا ہے۔فتح اصْطَخَر اضطر فارس کا مرکزی شہر تھا۔یہ ساسانی بادشاہوں کا قدیم مرکزی اور مقدس مقام تھا۔یہاں پر ان کا قدیم آتش کدہ بھی تھا جس کی نگرانی خود شہنشاہ ایران کرتا تھا۔حضرت عثمان بن ابو العاص نے اضطخر کے مقام کا ارادہ کرتے ہوئے اس کی طرف پیش قدمی کی اور اہل اضطخُر کے ساتھ جور کے مقام پر مقابلہ ہوا۔مسلمانوں نے وہاں ان کے ساتھ بھر پور جنگ لڑی۔پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل جور کے مقابلے پر فتح عطا کی اور مسلمانوں نے اضطخر بھی فتح کر لیا۔بہت سے لوگوں کو قتل کیا گیا اور بہت سے لوگ بھاگ گئے۔حضرت عثمان بن ابو العاص نے کافروں کو جزیہ ادا کرنے اور ذمی رعایا بننے کی دعوت دی۔چنانچہ انہوں نے ان سے خط و کتابت کی اور حضرت عثمان بن ابو العاص بھی ان سے نامہ و پیام کرتے رہے۔آخر کار ان کے حاکم ھرمز نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور جزیہ ادا کرنے پر راضی ہو گئے۔چنانچہ جو لوگ فتح اصطخر کے وقت بھاگ گئے تھے یا الگ ہو گئے تھے سب جزیہ ادا کرنے کی شرط کے ساتھ دوبارہ امن کی جگہ پر واپس آگئے۔دشمن کی شکست کے بعد حضرت عثمان بن ابو العاص نے سب مال غنیمت جمع کیا اور اس کا خمس نکال کر امیر المومنین حضرت عمرؓ کے پاس بھیج دیا اور باقی حصہ مسلمانوں میں تقسیم کی غرض سے رکھ لیا اور تمام مسلمان فوجوں کو لوٹ مار سے روک دیا اور چھینی ہوئی چیزوں کو واپس کرنے کا حکم دیا۔جو کچھ لوگوں سے چھینا تھا سپہ سالار نے کہا کہ سب واپس کر و۔پھر حضرت عثمان بن ابو العاص نے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا اور فرمایا ہمارا معاملہ ہمیشہ بام عروج پر رہے گا اور ہم تمام مصائب سے محفوظ رہیں گے جب تک کہ ہم چوری اور خیانت نہ کریں۔جب ہم مال غنیمت میں خیانت کرنے لگیں گے اور یہ نا پسندیدہ باتیں ہمارے اندر نظر آئیں گی تو یہ برے کام ہماری اکثریت کو لے ڈوبیں گے۔خیانت کروگے، چوری کرو گے تو پھر یہی باتیں تمہیں لے ڈوبیں گی اور آج کل کے مسلمانوں میں یہی کچھ ہمیں نظر آرہا ہے۔آپس میں ہی لوٹ مار ہے یا جہاں بھی جاتے ہیں وہاں لوٹ مار ہے، بد دیانتی ہے اور انہی بد اخلاقیوں نے ان کو