اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 149

صحاب بدر جلد 3 149 حضرت عمر بن خطاب نہاوند کی فتح اپنے نتائج کے لحاظ سے بہت اہم تھی۔اس کے بعد ایرانیوں کو ایک جگہ مجتمع ہو کر مقابلہ کرنے کا موقع نہیں ملا اور مسلمان اس فتح کو فتح الفتوح کے نام سے یاد کرنے لگے۔273 ایران پر عام لشکر کشی کی تجویز بھی ہوئی۔کس طرح ہوئی؟ اس بارہ میں لکھا ہے کہ گو اخلاقی اور قانونی نقطہ نظر سے مسلمان اس امر کے بالکل مجاز تھے کہ مملکت کی جارحانہ طاقت کو پوری طرح توڑ کر دم لیں کیونکہ دشمن بار بار حملہ کر رہا تھا۔حضرت عمر کا درد مند دل ہر مرحلے پر مزید خونریزی سے متنفر تھا لیکن حضرت عمرگو یہ چیز پسند نہیں تھی اور رحمت للعالمین مال لینے کے اس بچے خادم کی قلبی خواہش تھی کہ ایرانی سلطنت سرحدی علاقوں پر ہی شکست کھا کر مزید فوجی کارروائیاں بند کر دے اور یہ جنگ وجدال کا سلسلہ بند ہو جائے۔حضرت عمرؓ نے نہ صرف اس خواہش کا متعدد مرتبہ اظہار کیا بلکہ ایران و عراق کی افواج کو خود بخود کسی پیش قدمی سے کلیہ منع کر دیا تھا مگر دشمن کی مزید فوجی کارروائیوں اور مفتوحہ علاقوں میں بار بار بغاوت کر ا دینے کے سبب سے آپ کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی اور محاذ جنگ سے آمدہ اہل الرائے کے ایک وفد سے گفتگو کر کے آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مزید فوجی اقدام کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔یہ سترہ ہجری کی بات ہے مگر اس کے باوجود بھی ایک لمبے عرصہ تک آپ نے افواج کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔مگر اب حالات جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے مزید صبر کی اجازت نہ دیتے تھے۔حضرت عمرؓ نے دیکھ لیا تھا کہ یزدجرد متواتر ہر سال فوج کو بھیج کر جنگ کی آگ بھڑ کانے کا موجب بن رہا ہے۔لوگوں نے بار بار آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ جب تک وہ اپنی سلطنت میں موجود ہے اس رویہ میں تبدیلی نہیں کرے گا اور اب نہاوند کے معرکے نے اس رائے کو اور بھی مضبوط کر دیا تھا۔ان حالات سے مجبور ہو کر حضرت عمرؓ نے معرکہ نہاوند اکیس ہجری کے بعد فوجی پیش قدمی کی اجازت دے دی تھی اور گل ایران کی فتح کے لیے پلان (plan) بنا کر فوج کوفہ روانہ کی جو ان جنگی سرگرمیوں کے لیے چھاؤنی کی حیثیت رکھتا تھا۔حضرت عمرؓ نے ایران کے مختلف علاقوں کے لیے مختلف سپہ سالار مقرر کیے اور مدینہ سے ان کے لیے خود جھنڈے بنوا کر بھجوائے۔خُراسان کا جھنڈا احنف بن قیس کو ، اضطغر کا جھنڈا عثمان بن ابو عاص کو ، اردشیر اور سابور کا جھنڈ امجاشع بن مسعود کو اور فسا اور دَارًا بجرد کا ساريه بن زُنَیم کو، سجستان کا عاصم بن عمرو کو مکر ان کا حکم بن عمرو کو بھیجا اور گزمان کا جھنڈ اسھیل بن عدی کو دیا۔آذربائیجان کی فتح کے لیے عُتبہ بن فرقد اور بگیر بن عبد اللہ کو جھنڈے بھیجے اور حکم دیا کہ ایک آذر بائیجان پر دائیں طرف حُلوان سے حملہ کرے اور دوسرا بائیں طرف موصل کی طرف سے حملہ آور ہو۔اصفہان کی مہم کا جھنڈ ا عبد اللہ بن عبد اللہ کو عنایت ہوا۔274 اصفہان کی فتح کے بارے میں لکھا ہے کہ اصفہان کی مہم عبد اللہ بن عبد اللہ کے سپر د ہوئی۔وہ نهاوند میں تھے کہ حضرت عمر کا خط ملا کہ اصفہان کی طرف روانہ ہوں اور ہر اول دستوں کا کمانڈر عبد اللہ