اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 79
حاب بدر جلد 2 79 حضرت ابو بکر صدیق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن شریف میں بار بار آنحضرت صلی علیہم کو کافروں پر فتح پانے کا وعدہ دیا گیا تھا مگر جب بدر کی لڑائی شروع ہوئی جو اسلام کی پہلی لڑائی تھی تو آنحضرت صلی علیم نے رونا اور دعا کرنا شروع کیا اور دعا کرتے کرتے یہ الفاظ آنحضرت صلی اللی کمی کے منہ سے نکلے۔اللهم إن أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا یعنی اے میرے خدا! اگر آج تو نے اس جماعت کو (جو صرف تین سو تیرہ آدمی تھے ) ہلاک کر دیا تو پھر قیامت تک کوئی تیری بندگی نہیں کرے گا۔ان الفاظ کو جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی علیم کے منہ سے سنا تو عرض کی یارسول اللہ ! صلی علیکم آپ اس قدر بے قرار کیوں ہوتے ہیں ؟ خدا تعالیٰ نے تو آپ کو پختہ وعدہ دے رکھا ہے کہ میں فتح دوں گا۔آپ نے فرمایا کہ یہ سچ ہے مگر اس کی بے نیازی پر میری نظر ہے یعنی کسی وعدہ کا پورا کر ناخد اتعالیٰ پر حق واجب نہیں ہے۔جب گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی تو رسول اللہ علی ایک ایک سائباں سے نیچے تشریف لائے اور لوگوں کو قتال پر ابھارا۔لوگ اپنی صفوں میں اللہ کا ذکر کر رہے تھے۔نبی کریم صلی علیہم نے بذات خود خوب قتال کیا اور آپ کے پہلو بہ پہلو حضرت ابو بکر صدیق قتال کرتے رہے۔222" حضرت ابو بکر کی بے نظیر شجاعت حضرت ابو بکر کی بے نظیر شجاعت سامنے آئی۔آپ ہر سرکش کافر سے لڑنے کے لیے تیار تھے اگر چہ آپ کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔اس معرکے میں آپ کے بیٹے عبد الرحمن کفار کی جانب سے لڑنے کے لیے آئے تھے اور عرب میں سب سے بڑے بہادروں میں سے ایک سمجھے جاتے تھے اور قریش میں تیر اندازی میں سب سے بڑے ماہر تھے۔جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو اپنے والد حضرت ابو بکر سے عرض کیا: بدر کے دن آپ میرے سامنے واضح نشان و ہدف پر تھے لیکن میں آپ سے ہٹ گیا اور آپ کو قتل نہ کیا تو حضرت ابو بکڑ نے فرمایا اگر تُو میرے نشانے پر ہوتا تو میں تجھ سے نہ ہٹتا۔223 اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ رسول کریم صلی الیتیم کے ساتھ کھانے میں شریک تھے کہ مختلف امور پر باتیں شروع ہو گئیں۔حضرت عبد الرحمن جو حضرت ابو بکر رضی اللہ کے بڑے بیٹے تھے اور جو بعد میں مسلمان ہوئے بدر یا احد کی جنگ میں کفار کی طرف سے لڑائی میں شریک ہوئے تھے۔انہوں نے کھانا کھاتے ہوئے باتوں باتوں میں کہا کہ ابا جان اس جنگ میں جب فلاں جگہ سے آپ گذرے تھے تو اس وقت میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا اور میں اگر چاہتا تو حملہ کر کے آپ کو ہلاک کر سکتا تھا مگر میں نے کہا اپنے باپ کو کیا مارنا ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا خدا نے تجھے ایمان نصیب کرنا تھا اس لئے تو بچ گیا ور نہ خدا کی قسم ! اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو ضرور مار ڈالتا۔224