اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 78
باب بدر جلد 2 78 حضرت ابو بکر صدیق کی حالت میں تھے کہ کبھی آپ سجدہ میں گر جاتے تھے اور کبھی کھڑے ہو کر خدا کو پکارتے اور آپ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر گر پڑتی تھی اور حضرت ابو بکر سے اٹھا اٹھا کر آپ پر ڈال دیتے تھے۔حضرت علی کہتے ہیں کہ مجھے لڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ ہی کا خیال آتا تھا تو میں آپ کے سائبان کی طرف بھاگا جاتا تھا لیکن جب بھی میں گیا میں نے آپ کو سجدہ میں گڑ گڑاتے ہوئے پایا اور میں نے سنا کہ آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ يَا حَيُّ يَا قَيَوْمُ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ۔220% یعنی اے میرے زندہ خدا! اے میرے زندگی بخش آقا! حضرت ابو بکر آپ کی اس حالت کو دیکھ کر بے چین ہوئے جاتے تھے اور کبھی کبھی بے ساختہ عرض کرتے تھے یار سول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔آپ گھبر ائیں نہیں۔اللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا۔مگر اس بچے مقولہ کے مطابق کہ ہر کہ عارف تر است ترساں تر۔یعنی ہر کوئی جتنی معرفت رکھتا ہے اتناہی وہ ڈرتا ہے۔” آپ برابر دعا اور گریہ وزاری میں مصروف رہے۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ”بدر کے موقع پر آنحضرت صلی الم سے جو ظہور میں آیا وہ بھی چشم بصیرت رکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لئے کافی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کا کس قدر خوف تھا۔جنگ بدر کے موقع پر جبکہ دشمن کے مقابلہ میں آپ اپنے جاں نثار بہادروں کو لے کر پڑے ہوئے تھے۔تائید الہی کے آثار ظاہر تھے۔کفار نے اپنے قدم جمانے کے لئے پختہ زمین پر ڈیرے لگائے تھے اور مسلمانوں کے لئے ریت کی جگہ چھوڑی تھی لیکن خدا نے بارش بھیج کر کفار کے خیمہ گاہ میں کیچڑ ہی کیچڑ کر دیا اور مسلمانوں کی جائے قیام مضبوط ہو گئی۔اسی طرح اور بھی تائیدات سماوی ظاہر ہو رہی تھیں لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کا خوف آنحضرت صلی العلم کے دل پر ایسا غالب تھا کہ سب وعدوں اور نشانات کے باوجود اس کے غنا کو دیکھ کر گھبراتے تھے اور بے تاب ہو کر اس کے حضور میں دعا فرماتے تھے کہ مسلمانوں کو فتح دے۔چنانچہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم جنگ بدر میں گول خیمہ میں تھے اور فرماتے تھے کہ اے میرے خدا! میں تجھے تیرے عہد اور وعدے یاد دلاتا ہوں اور ان کے ایفاء کا طالب ہوں۔اے میرے رب! اگر تُو ہی (مسلمانوں کی تباہی ) چاہتا ہے تو آج کے بعد تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا کہ یار سول اللہ انیس کیجئے۔آپ نے تو اپنے ب سے دعا کرنے میں حد کر دی۔رسول کریم صلی علیہم نے اس وقت زرہ پہنی ہوئی تھی۔آپ خیمہ سے باہر نکل آئے اور فرمایا کہ ابھی ان لشکروں کو شکست ہو جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے بلکہ یہ وقت ان کے انجام کا وقت ہے اور یہ وقت ان لوگوں کے لئے نہایت سخت اور کڑوا ہے۔اللہ اللہ خوف خدا کا ایسا تھا کہ باوجو د وعدوں کے اس کے غناء کا خیال تھا لیکن یقین بھی ایسا تھا کہ جب حضرت ابو بکر نے عرض کی تو بآواز بلند سنا دیا کہ میں ڈرتا نہیں بلکہ خدا کی طرف سے مجھے علم ہو چکا ہے کہ دشمن شکست کھا کر ذلیل و خوار ہو گا اور ائمۃ الکفر یہیں مارے جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔“ 221"