اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 38

اصحاب بدر جلد 2 38 حضرت ابو بکر صدیق دیکھیں کہ آنحضرت ملی ایم کی یہ بات حرف بہ حرف پوری ہوئی اور وہی منی جو اس وقت کسری کی طاقت سے اتنا مرعوب تھا کہ اس کی ناراضگی کے ڈر سے اسلام قبول کرنے سے ہچکچا رہا تھا کچھ ہی دیر بعد حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت میں اسی کسری سے مقابلہ کرنے والی اسلامی فوج کے سپہ سالار یہی متقی بن حارثہ ہی 104 تھے جنہوں نے کسری کی کمر توڑ کے رکھ دی اور آنحضرت صلی الم کی بشارتوں کے مصداق بنے۔4 اسی طرح ایک حج کے موقع کی روایت یوں ہے کہ جب قبیلہ بکر بن وائل حج کے لیے مکہ آیا تو رسول اللہ صلی الم نے حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ ان لوگوں کے پاس جائیں اور مجھے ان کے سامنے پیش کریں یعنی تبلیغ کریں، آپ کا دعویٰ پیش کریں۔حضرت ابو بکر ان لوگوں کے پاس گئے اور نبی کریم صلی علیکم کو ان کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ ﷺ نے ان کو اسلام کی تبلیغ کی۔105 بیعت عقبہ ثانیہ کے ذکر میں لکھا ہے کہ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر نبی کریم ملی ایم کے ہمراہ حضرت ابو بکر اور حضرت علی اور نبی کریم صلی عوام کے چھا حضرت عباس تھے۔حضرت عباس جو کہ اس تقریب اور میٹنگ کے گویا منتظم اعلیٰ تھے انہوں نے حضرت علی کو ایک گھائی پر بطور پہرے دار کھڑا کیا اور ایک دوسری گھائی پر حضرت ابو بکر کو ، انہوں نے پہرے اور حفاظت کے لیے کھڑا کیا تھا۔106 ہجرت کا حکم اور مظلوم مسلمانوں کی مکہ سے ہجرت پھر نبی اکرم صلی یی کم کی ہجرت مدینہ جب ہوئی ہے اس میں حضرت ابو بکر صدیق کی مصاحبت کا ذکر ہے۔لکھا ہے کہ کفار مکہ کا مکہ میں مقیم مسلمانوں پر ظلم و ستم مسلسل بڑھتا جار ہا تھا کہ اسی دوران آنحضرت صلی علیکم کو ایک خواب دکھایا گیا جس میں دو مسلمانوں کو وہ جگہ دکھائی گئی جدھر آپ نے ہجرت کرنا تھی۔وہ جگہ شور زمین والی کھجوروں میں گھری ہوئی تھی لیکن اس کا نام نہ دکھایا گیا تھا اور نہ بتایا گیا تھا۔البتہ اس کا جغرافیہ اور نقشہ دیکھتے ہوئے آنحضرت صلی الی یکم نے خود اجتہاد فرماتے ہوئے فرمایا کہ تجر یا یمامہ ہوگی جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ذکر ملتا ہے جس کے مطابق آپ نے فرمایا: فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنّهَا الْيَمَامَةُ أَوِ الهَجْرُ، فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَترب۔107 کہ میرا خیال اس طرف گیا کہ یہ جگہ یمامہ یا حجر ہے مگر کیا دیکھتا ہوں کہ وہ تو بیشر ب شہر ہے۔109 108 یمامہ بھی یمن کا ایک مشہور شہر ہے۔اور ھجر نام کی متعدد بستیاں عرب خطے میں پائی جاتی تھیں۔بحرین کا ایک شہر اور بحرین کا ایک حصہ بھی ہجر کہلا تا تھا۔بہر حال کچھ ہی عرصہ بعد حالات ایک رخ پر ہونے لگے اور مدینہ کے سعادت مند انصار نے اسلام قبول کرنا شروع کیا تو القائے ربانی سے آپ پر منکشف ہوا کہ وہ سر زمین تو یثرب کی سر زمین تھی