اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 34
اصحاب بدر جلد 2 34 حضرت ابو بکر صدیق انہوں نے کھال اور مُردار اور بد بودار لاشیں بھی کھائیں اور ان میں سے کوئی جو آسمان کی طرف نظر کر تا تو بھوک کے مارے اسے دھواں ہی نظر آتا تھا۔جن چار پیشنگوئیوں کا ذکر ہے ان میں سے ایک یہ واقعہ ہے۔ابو سفیان آپ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ محمد (صلی الم ) آپ تو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور صلہ رحمی کا حکم کرتے ہیں اور یہ دیکھیں آپ کی قوم ہلاک ہو گئی ہے۔اللہ سے ان کے لیے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔پس انتظار کر اس دن کا جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا۔ضرور تم انہی باتوں کا اعادہ کرنے والے ہو جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے۔پس یہ بڑی گرفت بدر کے دن ہوئی۔چنانچہ دھوئیں کا عذاب اور سخت گرفت اور لزاما والی پیشگوئی اور روم کی پیشگوئی یہ سب باتیں ہو چکی ہیں۔یہ بخاری کی روایت ہے۔97 اس حدیث کی شرح میں علامہ بدر الدین عینی غلبہ کروم والی پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب اہل فارس اور اہل روم کے درمیان جنگ ہوئی تو مسلمان اہل فارس پر اہل روم کی فتح کو پسند کرتے تھے کیونکہ وہ اہل روم ، اہل کتاب تھے جبکہ کفار قریش اہل فارس کی فتح کو پسند کرتے تھے کیونکہ وہ اہل فارس مجوسی تھے اور کفار قریش بھی بتوں کی عبادت کرتے تھے۔پس اس بات پر حضرت ابو بکر اور ابو جہل کے در میان شرط لگ گئی یعنی انہوں نے کسی چیز پر آپس میں چند سال کی مدت مقرر کر لی تو رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا کہ وہاں بضح کا لفظ ہے۔بضع تو نو برس یا سات برس پر اطلاق پاتا ہے۔پس مدت کو بڑھا دو۔پھر انہوں نے ، حضرت ابو بکر نے ایسا ہی کیا۔پس اہل روم غالب آگئے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- الم غُلِبَتِ الروم في أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَ يَوْمَيذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ الله (الروم :12) ترجمہ یہ ہے الم کہ انا اللهُ أَعْلَمُ۔یعنی میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔اہل روم مغلوب کیے گئے۔قریب کی زمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد پھر ضر ور غالب آجائیں گے۔تین سے نو سال کے عرصہ تک۔حکم اللہ ہی کا چلتا ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور اس دن مومن بھی اپنی فتوحات سے بہت خوش ہوں گے جو اللہ کی نصرت سے ہو گی۔اور شعی کہتے ہیں کہ اس وقت شرط لگانا حلال تھا۔8 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس بارے میں لکھا ہے کہ اسلام سے قبل اور اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تمام متمدن دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ وسیع سلطنتیں دو تھیں۔سلطنت فارس اور سلطنت روم اور یہ دونوں سلطنتیں عرب کے قریب واقع تھیں۔سلطنت فارس عرب کے شمال مشرق میں تھی اور سلطنت روم شمال مغرب میں۔چونکہ ان سلطنتوں کی سرحدیں ملتی تھیں اس لیے بعض اوقات ان کا آپس میں جنگ و جدل بھی ہو جاتا تھا۔اس زمانہ میں بھی جس کا ذکر آتا ہے یہ بر سر پیکار تھیں۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب پیشگوئی ہوئی اور سلطنت فارس نے سلطنت روم کو زیر کیا ہوا تھا اور اس کے کئی قیمتی علاقے چھین لیے تھے اور اسے برابر دباتی چلی جاتی تھی۔قریش بت پرست تھے اور فارس کا بھی قریباً قریباً یہی مذہب تھا۔اس لیے قریش مکہ فارس کی ان فتوحات پر بہت خوش تھے۔مگر مسلمانوں کی سلطنت روم سے ہمدردی تھی کیونکہ رومی سلطنت عیسائی تھی اور عیسائی بوجہ اہل 98 سلطنتیں