اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 459 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 459

تاب بدر جلد 2 459 حضرت ابو بکر صدیق مسجدیں رہ گئیں جن میں نماز پڑھی جاتی تھی۔باقی کسی مسجد میں نماز ہی نہیں پڑھی جاتی تھی۔یہ وہی لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَ لكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا ( الجرات:15) مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ دوبارہ اسلام کو قائم کیا اور وہ آدم ثانی ہوئے۔میرے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت بڑا احسان اس امت پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ہے کیونکہ ان کے زمانہ میں چار جھوٹے پیغمبر ہو گئے۔مسیلمہ کے ساتھ ایک لاکھ آدمی ہو گئے تھے اور ان کا نبی ان کے درمیان سے اٹھ گیا تھا مگر ایسی مشکلات پر بھی اسلام اپنے مرکز پر قائم ہو گیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تو بات بنی بنائی ملی تھی۔پھر وہ اس کو پھیلاتے گئے۔یہاں تک کہ نواح عرب سے اسلام نکل کر شام و روم تک جا پہنچا اور یہ ممالک مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ والی مصیبت کسی نے نہیں دیکھی نہ حضرت عمرؓ نے نہ حضرت عثمان نے اور نہ حضرت علی نے 1053 پھر آپ فرماتے ہیں کہ ”جو خدا تعالیٰ کے لئے ذلیل ہو وہی انجام کار عزت و جلال کا تخت نشیں ہو گا۔ایک ابو بکر ہی کو دیکھو جس نے سب سے پہلے ذلت قبول کی اور سب سے پہلے تخت نشین ہوا۔“ فرمایا: ”کیا دنیا میں ایسی کم مثالیں اور نظیریں ہیں کہ جو لوگ اس کی راہ میں قتل کئے گئے۔ہلاک کئے گئے ان کے زندہ جاوید ہونے کا ثبوت ذرہ ذرہ زمین میں ملتا ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہی دیکھ لو کہ سب سے زیادہ اللہ کی راہ میں برباد کیا اور سب سے زیادہ دیا گیا۔چنانچہ تاریخ اسلام میں پہلا خلیفہ حضرت ابو بکر ہی ہوا۔فرمایا: بہت کا یہ بھی خیال ہو گا کہ کیا ہم انقطاع الی اللہ کر کے اپنے آپ کو تباہ کر لیویں ؟ مگر یہ ان کو دھوکا ہے۔کوئی تباہ نہیں ہو گا۔حضرت ابو بکر کو دیکھ لو۔اس نے سب کچھ چھوڑا پھر وہی سب وو 1055❝ سے اوّل تخت پر بیٹھا۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” جہاں تک تم پر اس دلیل کی وضاحت کے لئے تفصیل کا تعلق ہے تو اے اہل دانش و فضیلت ! جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمان مردوں اور عورتوں سے ان آیات میں یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے فضل اور رحم سے ان میں سے بعض مومنوں کو ضرور خلیفہ بنائے گا۔“ آیتِ استخلاف کے بارے میں فرما رہے ہیں ” اور ان کے خوف کو ضرور امن کی حالت میں بدل دے گا۔اس امر کا اتم اور اکمل طور پر مصداق ہم حضرت صدیق اکبر کی خلافت کو ہی پاتے ہیں۔کیونکہ جیسا کہ اہل تحقیق سے یہ امر مخفی نہیں کہ آپ کی خلافت کا وقت خوف اور مصائب کا وقت تھا۔چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو اسلام اور مسلمانوں پر مصائب ٹوٹ پڑے۔“ فرماتے ہیں : ” بہت سے منافق مرتد ہو گئے اور مرتدوں کی زبانیں دراز ہو گئیں اور افترا پردازوں کے ایک گروہ نے دعوئی نبوت کر دیا اور اکثر بادیہ نشین ان کے گرد جمع ہو گئے یہاں تک کہ مسیلمہ کذاب کے ساتھ ایک لاکھ ط