اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 419
حاب بدر جلد 2 419 حضرت ابو بکر صدیق کے فیض سے پل بھر میں وہ کچھ حاصل ہو گیا جو دوسروں کو لمبے زمانوں اور دُور دراز اقلیموں میں حاصل نہ ہو سکا۔9774 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چودہ ساتھیوں میں شمولیت اس کے بارے میں ذکر آتا ہے کہ حضرت علی بن ابو طالب نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔یقینا ہر نبی کو سات نجیب سا تھی دیے گئے یا فرمایا سا تھی۔صرف ساتھی کہا اور مجھے چودہ دیے گئے ہیں۔ہم نے انہیں کہا وہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا میں اور میرے دونوں بیٹے اور حضرت جعفر اور حضرت حمزہ اور حضرت ابو بکر یعنی حضرت علی اور ان کے دونوں بیٹے حضرت جعفر، حضرت حمزہ، حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ، حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت بلال اور حضرت سلمان اور حضرت عمار اور حضرت مقداد اور حضرت حذیفہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود - 978 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت ابو بکر صدیق کو جج کی امارت بھی دی گئی تھی۔اس بارے میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 19 ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق ہو امیر الج بنا کر مکہ روانہ فرمایا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا۔پھر آپ سے ذکر کیا گیا کہ مشرکین دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر حج کرتے ہیں اور شرکیہ الفاظ ادا کرتے ہیں اور خانہ کعبہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال حج کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور حضرت ابو بکر صدیق کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا۔979 حضرت ابو بکر صدیق تین سو صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ میں قربانی کے جانور بھیجے جن کے گلے میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے قربانی کی علامت کے طور پر گانیاں پہنائیں اور نشان لگائے۔حضرت ابو بکر خود اپنے ساتھ پانچ قربانی کے جانور لے کر گئے۔980 روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی نے سورہ توبہ کی ابتدائی آیات کا اس حج کے موقع پر اعلان کیا تھا۔اس کی تفصیل تو حضرت علی کے ذکر میں اور پھر حضرت ابو بکر کے ذکر میں شروع میں ایک دفعہ خطبہ میں میں بیان کر چکا ہوں۔981 بہر حال مختصر آ یہاں بیان کرتا ہوں کہ جب سورت براءت یعنی سورت توبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر کو بطور امیر حج بھجواچکے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ ! اگر آپ یہ سورت حضرت ابو بکر کی طرف بھیج دیں تا کہ وہاں پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اہل بیت میں سے کسی شخص کے سوا کوئی یہ فریضہ میری طرف سے ادا نہیں کر سکتا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو بلوایا اور انہیں فرمایا کہ سورت تو بہ کے آغاز میں جو بیان ہوا ہے اس کو لے جاؤ اور قربانی کے دن جب لوگ منی میں اکٹھے ہوں تو ان میں