اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 418
اصحاب بدر جلد 2 418 حضرت ابو بکر صدیق قلت اور کمی میں بڑھا دیتا ہے۔976 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت ابو بکر کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”آپ رضی اللہ عنہ معرفتِ تامہ رکھنے والے عارف باللہ ، بڑے حلیم الطبع اور نہایت مہربان فطرت کے مالک تھے اور انکسار اور مسکینی کی وضع میں زندگی بسر کرتے تھے۔بہت ہی عفو و در گزر کرنے والے اور محبتم شفقت ورحمت تھے۔آپ اپنی پیشانی کے نور سے پہچانے جاتے تھے۔آپ کا حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے گہرا تعلق تھا اور آپ کی روح خیر الوریٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روح سے پیوست تھی اور جس نور نے آپ کے آقا و مقتدا محبوب خدا کو ڈھانپا تھا اسی نور نے آپ کو بھی ڈھانپا ہوا تھا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے نور کے لطیف سائے اور آپ کے عظیم فیوض کے نیچے چھپے ہوئے تھے۔اور فہم قرآن اور سید الرسل، فخر بنی نوع انسان کی محبت میں آپ تمام لوگوں سے ممتاز تھے۔اور جب آپ پر اخروی حیات اور الہی اسرار منکشف ہوئے تو آپ نے تمام دنیوی تعلقات توڑ دیئے اور جسمانی وابستگیوں کو پرے پھینک دیا اور اپنے آپ اپنے محبوب کے رنگ میں رنگین ہو گئے اور واحد مطلوب ہستی کی خاطر ہر مراد کو ترک کر دیا اور تمام جسمانی کدورتوں سے آپ کا نفس پاک ہو گیا۔اور نیچے یگانہ خدا کے رنگ میں رنگین ہو گیا اور رب العالمین کی رضا میں گم ہو گیا اور جب سنچی الہی محبت آپ کے تمام رگ و پے اور دل کی انتہائی گہرائیوں میں اور وجود کے ہر ذرہ میں جاگزین ہو گئی۔اور آپ کے افعال و اقوال میں اور برخاست و نشست میں اس کے انوار ظاہر ہو گئے تو آپے صدیق کے نام سے موسوم ہوئے اور آپ کو نہایت فراوانی سے تر و تازہ اور گہرا علم تمام عطا کرنے والوں میں سے بہتر عطا کرنے والے خدا کی بارگاہ سے عطا کیا گیا۔صدق آپ کا ایک راسخ ملکہ اور طبعی خاصہ تھا اور اس صدق کے آثار و انوار آپ میں اور آپ کے ہر قول و فعل، حرکت و سکون اور حواس و انفاس میں ظاہر ہوئے۔ہی ظاہر ہوئے۔آپ آسمانوں اور زمینوں کے رب کی طرف سے منعم علیہ گروہ میں شامل کئے گئے۔آپ کتاب نبوت کا ایک اجمالی نسخہ تھے۔اور آپ ارباب فضیلت اور جوانمردوں کے امام تھے اور نبیوں کی سرشت رکھنے والے چیدہ لوگوں میں سے تھے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں تو ہمارے اس قول کو کسی قسم کا مبالغہ تصور نہ کر اور نہ ہی اسے نرم رویے اور چشم پوشی کی قسم سے محمول کر اور نہ ہی اسے چشمہ کمحبت سے پھوٹنے والا سمجھ بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جو بارگاہ رب العزت سے مجھ پر ظاہر ہوئی۔“ آپ نے حضرت ابو بکر نیا جو مقام بیان کیا ہے، آپ کے خواص، آپ کے مناقب اور جو اتنی تعریفیں کی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر براہ راست ظاہر فرمائی ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں ” اور آپ رضی اللہ عنہ کا مشرب رب الارباب پر توکل کرنا اور اسباب کی طرف کم توجہ کرنا تھا اور آپ تمام آداب میں ہمارے رسول اور آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے بطور ظل کے تھے اور آپ کو حضرت خیر البریہ سے ایک ازلی مناسبت تھی اور یہی وجہ تھی کہ آپ کو حضور