اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 412
محاب بدر جلد 2 412 حضرت ابو بکر صدیق 971 ہو گا۔حضرت ابو بکر ہی جانشین بنیں گے۔پھر حضرت حذیفہ بن یمان کی بھی ایک روایت ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نہیں جانتا کہ میرے لیے تم میں باقی رہنا کب تک ہے۔پس تم میری پیروی کرو اور ان کی جو میرے بعد ہیں۔اور آپ کا اشارہ ابو بکر اور عمر کی طرف تھا۔970 حضرت ابوہریرہ کہتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ ایک بار میں سویا ہوا تھا۔میں نے اپنے تئیں ایک کنویں پر دیکھا جس پر ایک ڈول تھا۔میں نے اس کنویں میں سے جتنا اللہ نے چاہا کھینچ کر پانی نکالا۔پھر ابن ابی قحافہ نے وہ ڈول لے لیا اور اس سے پانی کا ایک ڈول یا دو ڈول کھینچ کر نکالے اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی اور اللہ ان کی اس کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگزر کرے گا۔پھر وہ ڈول ایک چر سا ہو گیا یعنی چمڑے کا ایک بڑا ڈول بن گیا اور ابنِ خطاب نے اس کو لیا تو میں نے کبھی لوگوں میں ایسا شہ زور نہیں دیکھا جو اس طرح کھینچ کر پانی نکالتا ہو جس طرح عمر نکالتے تھے۔اتنا نکالا کہ لوگ خوب سیر ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں میں جابیٹھے۔یعنی حضرت ابو بکر اور عمر دونوں کے بارے میں آپ نے بتایا کہ آپ کے بعد جانشین ہوں گے۔واقعہ افک میں حضرت ابو بکر کا کردار اور آپ کے فضائل جو ہیں اس کی تفصیل تو پہلے صحابہ میں بیان ہو چکی ہے۔یہاں صرف ایک مختصر حصہ پیش کرتا ہوں جس سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عائشہ پر اتنابڑا الزام لگایا گیا گویا ایک پہاڑ ٹوٹ گیا لیکن حضرت عائشہ کے والدین کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام بیٹی کے پیار سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا تھا کہ انہوں نے اس سارے عرصہ میں دیر تک اپنی بیٹی کو اسی حالت میں رہنے دیا کہ جس حالت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھنا مناسب سمجھا یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب حضرت عائشہ اپنے والدین کے گھر تشریف لائیں تو حضرت ابو بکر نے انہیں اسی وقت واپس ان کے گھر بھیج دیا۔چنانچہ بخاری میں ہے کہ واقعہ افک کے دوران حضرت عائشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ایک خادم کے ساتھ اپنے والدین کے گھر تشریف لے گئیں۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ میں گھر میں داخل ہوئی اور میں نے اپنی والدہ ام رومان کو مکان کے نچلے حصہ میں اور حضرت ابو بکر کو گھر کے بالا خانے میں پایا۔وہ قرآن پڑھ رہے تھے۔میری ماں نے کہا اے میری پیاری بیٹی ! کیسے آئی؟ میں نے انہیں بتایا اور وہ واقعہ ان سے بیان کیا۔کہتی ہیں میں کیا دیکھتی ہوں کہ اس سے انہیں وہ حیرت نہیں ہوئی جس قدر مجھے ہوئی میرا جو خیال تھا کہ واقعہ سن کر وہ پریشان ہوں گی لیکن ان کو کوئی حیرت نہیں ہوئی۔حضرت عائشہ کی والدہ کہنے لگیں کہ اے میری پیاری بیٹی ! اپنے خلاف ہونے والی اس بات کو معمولی سمجھو کیونکہ اللہ کی قسم ! کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کوئی خوبصورت عورت کسی شخص کے پاس ہو جس سے وہ محبت رکھتا ہو۔اس کی سوننیں ہوں مگر وہ اس سے حسد کرتی ہیں اور اس کے متعلق باتیں بنائی جاتی ہیں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں میں کیا دیکھتی ہوں کہ اس کا ان پر وہ اثر نہیں جو مجھ پر ہے۔میں نے کہا کہ میرے والد بھی یہ