اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 390
محاب بدر جلد 2 390 حضرت ابو بکر صدیق گویا جس طرح کسی عزیز کے بیمار ہونے پر بکر اذبح کیا جاتا ہے اسی طرح حضرت ابو بکڑ نے اپنی اور اپنے سب عزیزوں کی قربانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کی۔آپ کے رونے کو دیکھ کر اور اس بات کو سن کر بعض صحابہ نے کہا دیکھو ! اس بڑھے کو کیا ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے کسی بندہ کو اختیار دیا ہے کہ خواہ وہ رفاقت کو پسند کرے یا دنیوی ترقی کو۔اور اس نے رفاقت کو پسند کیا۔یہ کیوں رو رہا ہے ؟ اس جگہ جو اسلام کی فتوحات کا وعدہ پیش کیا جا رہا ہے، حتی کہ حضرت عمر جیسے جلیل القدر صحابی نے بھی اس کا اظہار حیرت کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے اس استعجاب کو محسوس کیا اور حضرت ابو بکر کی بیتابی کو دیکھا اور آپ کی تسلی کے لئے فرمایا کہ ابو بکر مجھے اتنے محبوب ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو خلیل بنانا جائز ہو تا تو میں ان کو خلیل بناتا “ پھر آگے فرمایا مگر اب بھی یہ میرے دوست اور صحابی ہیں۔پھر فرمایا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ آج سے سب لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں جو مسجد میں کھلتی ہیں بند کر دی جائیں سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے اور اس طرح آپ کے عشق کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داد دی کیونکہ یہ عشق کامل تھا جس نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتا دیا کہ اس فتح و نصرت کی خبر کے پیچھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے اور آپ نے اپنی اور اپنے سب عزیزوں کی جان کا فدیہ پیش کیا کہ ہم مر جائیں مگر آپ زندہ رہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر بھی حضرت ابو بکر نے اعلیٰ نمونہ عشق کا دکھایا۔غرض حضرت ابو بکر نے غارِ ثور میں اپنی جان کے لئے گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص طور پر تسلی دی۔“12” ہر مقام پر جہاں بھی اظہار کیا وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی وجہ سے کیا۔حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ”حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر اور حضرت ابو بکر کی کسی بات پر تکرار ہو گئی۔یہ تکرار بڑھ گئی۔حضرت عمرؓ کی طبیعت تیز تھی۔اس لئے حضرت ابو بکر نے مناسب سمجھا کہ وہ اس جگہ سے چلے جائیں تاکہ جھگڑا خواہ مخواہ زیادہ نہ ہو جائے۔حضرت ابو بکر نے جانے کی کوشش کی تو حضرت عمر نے آگے بڑھ کر حضرت ابو بکر ٹکا کر نہ پکڑ لیا کہ میری بات کا جواب دے کر جاؤ۔جب حضرت ابو بکر اس کو چھڑا کر جانے لگے تو آپ کا کرتہ پھٹ گیا۔آپ وہاں سے اپنے گھر کو چلے آئے لیکن حضرت عمر کو شبہ پیدا ہوا کہ حضرت ابو بکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میری شکایت کرنے گئے ہیں۔وہ بھی پیچھے پیچھے چل پڑے تا کہ میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا عذر پیش کر سکوں لیکن راستے میں حضرت ابو بکر حضرت عمر کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔حضرت عمر یہی سمجھے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کرنے گئے ہیں۔وہ بھی سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا پہنچے۔وہاں جا کر دیکھا تو حضرت ابو بکر موجود نہ تھے لیکن چونکہ ان کے دل میں ندامت پیدا ہو چکی تھی اس لئے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں ابو بکر سے سختی سے پیش آیا ہوں۔حضرت ابو بکر کا کوئی قصور