اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 389

اصحاب بدر جلد 2 389 حضرت ابو بکر صدیق مسلمانوں میں سے تھا اور ایک آدمی یہود میں سے تھا۔مسلمان نے کہا اس کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی تو یہودی نے کہا اس کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی۔اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے منہ پر تھپڑ مارا۔وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو بتایا جو اس کے اور مسلمان کے درمیان معاملہ ہوا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کے متعلق دریافت کیا۔اس نے آپ کو بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسیٰ پر مجھے فضیلت نہ دو۔909 اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ جس مسلمان نے یہودی کو تھپڑ مارا تھاوہ حضرت ابو بکر تھے۔910 یہ بخاری کی روایت ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اس طرح فرمایا ہے کہ: آپ غیر مذاہب والوں کے احساسات کا بھی بے حد خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت ابو بکر کے سامنے کسی یہودی نے کہہ دیا کہ مجھے موسیٰ کی قسم جسے خدا نے سب نبیوں پر فضیلت دی ہے۔اس پر حضرت ابو بکر نے اسے تھپڑ مار دیا۔جب اس واقعہ کی رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر ملی تو آپ نے حضرت ابو بکر جیسے انسان کو زجر کی۔“ ڈانٹا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : غور کرو مسلمانوں کی حکومت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت موسیٰ کو ایک یہودی فضیلت دیتا ہے اور ایسی طرز سے کلام کرتا ہے کہ حضرت ابو بکر جیسے نرم دل انسان کو بھی غصہ آجاتا ہے اور آپ اسے طمانچہ مار بیٹھتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ڈانٹتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔اسے حق ہے کہ جو چاہے عقیدہ رکھے۔911 اگر یہ اس کا عقیدہ ہے تو وہ بول سکتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو بکرؓ کے عشق و محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت ہے۔مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ : ”حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعلق بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشقیہ تھا۔جب آپ مدینہ میں داخل ہونے کے لیئے مکہ سے نکلے تو اس وقت بھی آپ کا تعلق عاشقانہ تھا اور جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو اس وقت بھی تعلق عاشقانہ تھا۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ توابا کی وحی قرآنی نازل ہوئی جس میں مخفی طور پر آپ کی وفات کی خبر تھی تو آپ نے خطبہ پڑھا اور اس میں اس سورت کے نزول کا ذکر فرمایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اپنی رفاقت اور دنیوی ترقیات میں سے ایک کے انتخاب کی اجازت دی اور اس نے اللہ تعالیٰ رفاقت کو ترجیح دی۔اس سورت کو سن کر سب صحابہ کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھے اور سب اللہ تعالیٰ کی تکبیر کرنے لگے اور کہنے لگے کہ الحمد للہ ! اب یہ دن آ رہا ہے مگر جس وقت باقی سب لوگ خوش تھے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چیخیں نکل ئیں اور آپ بے تاب ہو کر رو پڑے اور آپ نے کہا یار سول اللہ ! آپ پر ہمارے ماں باپ اور بیوی بچے سب قربان ہوں۔آپ کے لئے ہم ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔