اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 373
باب بدر جلد 2 373 حضرت ابو بکر صدیق سکھاتے تھے۔وہ ایسار سول کریم صلی اللی کم کی سنت کی پیروی میں کرتے تھے۔یہ ذمہ داری رسول کریم صلی علیکم اور ان کے خلیفہ حضرت ابو بکر کی نظر میں سب سے اہم شمار ہوتی تھی۔اس لیے حضرت ابو بکر کے امراء اور گورنروں نے اس ذمہ داری کو خوب نبھایا اور اچھی طرح نبھا یا حتی کہ ایک مؤرخ حضرت ابو بکر کے حضرموت میں مقرر کردہ امیر زیاد بن لبید کے بارے میں لکھتا ہے کہ جب صبح ہوتی تو زیاد لوگوں کو قرآن پڑھانے کے لیے تشریف لے آتے جیسا کہ وہ امیر بننے سے پہلے قرآن پڑھانے آیا کرتے تھے۔اسی طرح تعلیم و تربیت کے ذریعہ سے ان امراء نے اپنے علاقوں میں اسلام کی نشر و اشاعت میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔مفتوحہ علاقوں اور مرتد اور باغی ہو جانے والے علاقوں میں اسی تعلیم کی بدولت اسلام مضبوط ہوا۔ایسے علاقے جہاں ان کے باسی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور دینی احکام سے بے خبر تھے ان علاقوں میں اس تعلیم کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا جبکہ اسلام کے مضبوط مراکز مثلا مکہ مکرمہ ، طائف اور مدینہ منورہ میں بھی ایسے معلمین مقرر تھے جو لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے تھے۔یہ سب کچھ اس کے خلیفہ یا امیر کے حکم پر ہو تا تھا یا جنہیں خلیفہ خاص طور پر مختلف علاقوں میں تعلیم کے لیے متعین کر تا تھا وہ یہ فریضہ سر انجام دیتے تھے۔علاقے کا امیر یا گورنر اپنے صوبے کے انتظامی امور کا براہ راست ذمہ دار ہو تا تھا۔اگر اسے کسی سفر پہ جانا ہو تا تو وہ اپنا نائب مقرر کر تا تھا جو کہ اس کی واپسی تک انتظامی امور کی نگرانی کرتا تھا۔اس کی مثال یہ ہے کہ حضرت مہاجر بن ابی امیہ کو رسول کریم صلی علیم نے کندہ کا گورنر مقرر فرمایا۔آپ صلی الہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر نے بھی انہیں اسی عہدے پر بر قرار رکھا۔مہاجر اپنی بیماری کی وجہ سے یمن نہیں جاسکے وہ مدینہ میں رک گئے اور اپنی جگہ زیاد بن لبید کو روانہ کیا کہ ان کی شفایابی اور یمن تشریف آوری تک ان کے فرائض انجام دیں۔حضرت ابو بکر نے بھی اس امر کی اجازت دے دی۔اسی طرح عراق کی گورنری کے دوران حضرت خالد بن ولید حیرہ میں اپنی واپسی تک اپنا نائب مقرر کر دیتے تھے۔867 دمیوں کے حقوق ذقی وہ لوگ تھے جو اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کر کے اپنے مذہب پر قائم رہے اور اسلامی حکومت نے ان کی حفاظت کا ذمہ لیا۔یہ لوگ مسلمانوں کے بر عکس فوجی خدمت سے بری تھے اور زکوۃ بھی ان پر عائد نہیں ہوتی تھی۔اس لیے ان کے جان و مال اور دوسرے انسانی حقوق کی حفاظت کے بدلے ان سے ایک معمولی ٹیکس وصول کیا جاتا تھا جسے عرف عام میں جزیہ کہتے ہیں۔اس کی مقدار صرف چار درہم فی کس سالانہ تھی اور یہ صرف بالغ ، تندرست اور قابل کار افراد سے وصول کیا جاتا تھا۔بوڑھے ، اپاہج ، نادار، محتاج اور بچے اس سے بری تھے بلکہ معذوروں، محتاجوں کو اسلامی بیت المال سے مدد دی جاتی تھی۔عراق اور شام کی فتوحات کے دوران میں