اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 362

باب بدر جلد 2 362 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر نے اپنے ترکے کی بابت فرمایا کہ میرے بعد قرآنی احکام کے مطابق اسے تقسیم کر دیا جائے۔834 اسی طرح ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے متر و کہ مال میں سے رشتہ داروں کے لیے جو وارث نہیں تھے پانچویں حصہ کی وصیت کی تھی۔835 حضرت ابو بکر کی ازواج اور اولاد کے بارے میں ذکر ہے کہ آپ کی چار بیویاں تھیں۔نمبر ایک قتیله بنت عَبْدُ الْعُری۔ان کے اسلام لانے کے بارے میں اختلاف ہے۔یہ حضرت عبد اللہ اور حضرت اسماء کی والدہ تھیں۔حضرت ابو بکر نے انہیں زمانہ جاہلیت میں طلاق دے دی تھی۔یہ ایک مرتبہ مدینہ میں حضرت اسماء یعنی اپنی بیٹی کے پاس کچھ گھی اور پنیر بطور ہدیہ لے کر آئی تھیں مگر حضرت اسماء نے وہ ہدیہ لینے سے انکار کر دیا اور انہیں گھر میں داخل بھی نہیں ہونے دیا اور حضرت عائشہ کو کہلا بھیجا کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی علیم سے دریافت کریں۔حضرت عائشہ سے کہا کہ ذرا پوچھ کے بتائیں کہ میری ماں اس طرح آئی ہے اور تحفہ لائی ہے۔میں نے تو انہیں گھر میں داخل نہیں ہونے دیا۔کیا ارشاد ہے ؟ اس پر آپ صلی علیہ ہم نے فرمایا کہ ان کو گھر میں آنے دو اور ان کا ہد یہ قبول کرو۔نمبر دوجو اہلیہ تھیں وہ حضرت ام رومان بنت عامر تھیں۔آپ کا تعلق بنو کنعانہ بن خُزیمہ سے تھا۔آپ کے پہلے خاوند حارث بن سخی بر کا مکہ میں فوت ہو گئے اس کے بعد حضرت ابو بکر کے عقد میں آگئیں۔آپ ابتدا میں اسلام لے آئیں اور رسول اللہ صلی میریم کی بیعت کی اور مدینہ کی طرف ہجرت کی۔آپ کے بطن سے حضرت عبد الرحمن اور حضرت عائشہ کی ولادت ہوئی۔آپ کی وفات چھ ہجری میں مدینہ میں ہوئی۔نبی اکرم صلی الی یکم خود ان کی قبر میں اترے اور ان کی مغفرت کی دعا فرمائی۔تیسری حضرت آسمان بنت تخمیس بن معبد بن حارث تھیں۔آپ کی کنیت ام عبد اللہ ہے۔آپ مسلمانوں کے دار ارقم میں داخل ہونے سے پہلے ہی اسلام قبول کر کے رسول اللہ صلیالی کمی کی بیعت کر چکی تھیں۔آپ ابتدائی ہجرت کرنے والی تھیں۔آپ نے اپنے خاوند حضرت جعفر بن ابو طالب کے ساتھ پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں سے سات ہجری میں مدینہ تشریف لائیں۔آٹھ ہجری میں جنگ موتہ میں جب حضرت جعفر شہید ہو گئے تو آپ حضرت ابو بکرؓ کے عقد میں آگئیں۔آپ کے بطن سے محمد بن ابو بکر پید ا ہوئے۔چوتھی بیوی حضرت حبیبہ بنت خَارِجہ بن زید بن ابوزھیر تھیں۔ان کا تعلق انصار کی شاخ خزرج سے تھا۔حضرت ابو بکر مدینہ کے مضافاتی علاقے سُنخ میں آپ کے ساتھ رہا کرتے تھے۔آپ کے بطن سے حضرت ابو بکر کی صاحبزادی ام کلثوم پیدا ہوئیں جن کی ولادت حضرت ابو بکر کی وفات کے ام کچھ عرصہ بعد ہوئی۔اولاد میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔پہلے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر۔آپ حضرت