اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 361
اصحاب بدر جلد 2 361 حضرت ابو بکر صدیق 827 یعنی کیا ہی قدرت رکھنے والا ہے اللہ تعالیٰ۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا۔میری تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر دیکھنا کہ کوئی اور چیز تو نہیں رہ گئی۔باقی چیزیں تو حضرت عمر کو دے دی تھیں۔اگر ہو تو اس کو بھی حضرت عمرؓ کے پاس بھیج دینا۔تجہیز و تکفین کے متعلق فرمایا۔اس وقت جو کپڑا بدن پر ہے اسی کو دھو کر دوسرے کپڑوں کے ساتھ کفن دینا۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یہ تو پرانا ہے۔کفن کے لیے نیا ہونا چاہیے۔فرمایا زندے مردوں کی بہ نسبت نئے کپڑوں کے زیادہ حقدار ہیں۔828 جو نیا کپڑا ہے وہ کسی زندہ کو پہنا دو زیادہ بہتر ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو بکر نے وصیت کی تھی کہ آپ کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیں آپ کو غسل دیں۔حضرت ابو بکر کے صاحبزادے حضرت عبد الرحمن نے ان کے ساتھ معاونت کی۔آپ کا کفن دو کپڑوں پر مشتمل تھا۔ان میں سے ایک کپڑا غسل کے لیے استعمال ہونے والا تھا۔یہ بھی روایت ہے کہ تین کپڑوں میں کفن دیا گیا۔پھر آپ کو نبی کریم ملی میں کم کی چار پائی پر رکھا گیا۔یہ وہ چار پائی تھی جس پر حضرت عائشہ سویا کرتی تھی۔اسی چارپائی پر آپ کا جنازہ اٹھایا گیا اور حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی الم کی قبر اور منبر کے درمیان آپ کا جنازہ پڑھایا اور آپ کو رات کے وقت اسی حجرے میں رسول اللہ صلی علیکم کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔آپ کا سر رسول اللہ صلی یم کے کندھوں کے مقابل میں رکھا گیا۔829 تدفین کے وقت حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت طلحہ بن عبد اللہ اور 830 حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر قبر میں اترے اور تدفین کی۔ابنِ شہاب سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کو رات کے وقت دفن کیا۔حضرت سالم بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ قول بیان کرتے ہیں کہ : حضرت ابو بکر صدیق کی وفات کا سبب رسول اللہ صلی للی کم کی وفات کا غم تھا کیونکہ آنحضور صلی کم کی وفات کے بعد آپ کا جسم مسلسل کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔31 بعض سیرت نگاروں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ : 831 آپ کی وفات کا باعث وہ کھانا تھا جس میں کسی یہودی نے زہر ملایا تھا لیکن عموماً سیرت نگاروں نے اس روایت کی تردید بھی کی ہے۔832 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابو بکر کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے پوچھا یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے کہا سوموار۔حضرت ابو بکر نے کہا اگر آج میں فوت ہو جاؤں تو کل کا انتظار نہ کرنا کیونکہ مجھے وہ دن یارات زیادہ محبوب ہے جو رسول اللہ صلی نیلم کے زیادہ قریب ہو۔3 یعنی تدفین وہاں ہو جائے تو زیادہ بہتر ہے۔833