اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 347

اصحاب بدر جلد 2 اللہ بہتر جانتا ہے، واللہ اعلم فتح دمشق ( تیرہ ہجری) 347 801 حضرت ابو بکر صدیق یہ آخری جنگ تھی جو حضرت ابو بکر صدیق کے زمانے میں ہوئی۔دمشق کے محل وقوع کے بارے میں ہے کہ یہ قدیم دمشق شام کا دارالحکومت اور تاریخی روایات کا حامل شہر تھا۔ابتدا میں یہ بت پرستی کا بہت بڑا مرکز تھا لیکن جب عیسائیت آئی تو اس کے بت کدے کو کلیسیا بنا دیا گیا۔یہ ایک اہم تجارتی مرکز تھا۔یہاں عرب بھی آباد تھے اور مسلمانوں کے تجارتی قافلے یہاں آتے رہتے تھے اور اسی وجہ سے انہیں یہاں کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔دمشق ایک قلعہ نما فصیل بند شہر تھا۔حفاظت اور پائیداری کی وجہ سے اسے امتیازی حیثیت حاصل تھی۔اس کی فصیل بڑے بڑے پتھروں سے بنائی گئی تھی۔فصیل کی اونچائی چھ میٹر تھی۔اس میں انتہائی مضبوط دروازے لگائے گئے تھے۔فصیل کی چوڑائی تین میٹر تھی۔دروازے مضبوطی سے بند کیے جاتے تھے۔فصیل کے چاروں طرف گہری خندق تھی جس کی چوڑائی تین میٹر تھی۔اس خندق کو دریا کے پانی سے ہمیشہ بھر کر رکھا جاتا تھا۔اس طرح دمشق کافی مضبوط اور محفوظ حیثیت رکھتا تھا جس میں داخل ہونا آسان نہ تھا۔802 جب حضرت ابو بکر نے شام کی جانب مختلف لشکر روانہ فرمائے تو حضرت ابو عبیدہ کو ایک لشکر کا 803 امیر بنا کر حمص پہنچنے کا حکم دیا۔حمص دمشق کے قریب شام کا ایک قدیم مشہور اور بڑا شہر تھا۔حضرت ابو بکر کے ارشاد پر حضرت خالد بن ولید نے دمشق پہنچ کر دوسرے اسلامی لشکر کے ساتھ اس کا محاصرہ کر لیا۔اہل دمشق قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر مسلمانوں پر پتھر اور تیر برساتے تھے۔مسلمان چمڑے کی ڈھالوں سے اپنے آپ کو بچاتے۔موقع پا کر مسلمان بھی ان کو تیر مارتے۔اس طرح بیس دن کا عرصہ گزر گیا لیکن کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوا۔اہل دمشق قلعہ میں محصور ہونے کی وجہ سے سخت تنگی میں تھے۔قلعہ میں رسد بھی ختم ہونے والی تھی۔اس کے علاوہ اہل دمشق کے کھیت قلعہ سے باہر تھے لہذا ان کی کاشتکاری کے کاموں کو نقصان ہو رہا تھا۔قلعہ میں غلہ نہیں آسکتا تھا۔اشیائے صرف کی بھی قلت تھی۔محاصرے کی طوالت کی وجہ سے وہ سخت پریشانی اور مصیبت میں مبتلا ہو گئے تھے۔اسی دوران جبکہ دمشق کے محاصرے کو بیس دن گزر چکے تھے مسلمانوں کو خبر ملی کہ ھر قل بادشاہ نے اجنادین کے مقام پر رومیوں کا بھاری لشکر جمع کیا ہے۔یہ خبر سنتے ہی حضرت خالد باب شرقی سے روانہ ہو کر باب جابیہ پر حضرت ابو عبیدہ کے پاس آئے اور یہ صورتحال سے مطلع کرتے ہوئے اپنی رائے پیش کی کہ ہم دمشق کا محاصرہ ترک کر کے اجنادین میں رومی لشکر سے نپٹ لیں اور اگر اللہ نے ہمیں فتح دی تو پھر یہاں واپس لوٹ آئیں گے اور دمشق کا مسئلہ حل