اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 308
حاب بدر جلد 2 308 حضرت ابو بکر صدیق پہنچ گئے کیونکہ عراق کے خلاف آپ کی مہم کا آغاز محرم بارہ ہجری میں معرکہ کاظمہ سے ہوا اور اسی سال ربیع الاول بارہ ہجری میں جیزہ فتح ہو گیا۔جنگ انبار یا ذات العيون پھر اس کے بعد جنگ انبار یا ذات العیون کا ذکر ہے جو بارہ ہجری میں ہوئی۔ایرانی فوج حیرہ کے بالکل قریب انبار اور عین التمر میں خیمہ زن ہو چکی تھی۔انبار بھی بغداد کے قریب ایک شہر ہے۔انبار کی وجہ تسمیہ میں لکھا ہے کہ عربی زبان میں انبار غلہ و سامان رکھنے کی کو ٹھڑی کو کہتے ہیں اور اس شہر کو انبار اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہاں کھانے پینے کی چیزیں بکثرت موجود تھیں۔عین التمر انبار کے قریب کوفہ کے مغرب میں واقع ایک شہر ہے۔لکھا ہے کہ اسلامی فوج کو ان مقامات میں ایرانی فوج کی موجودگی سے سخت خطرہ پید اہو چکا تھا۔ان حالات میں اگر حضرت خالد بن ولید خاموشی سے حیرہ میں بیٹھے رہتے اور باہر نکل کر ایرانی فوجوں کے خلاف کارروائی نہ کرتے تو اندیشہ تھا کہ مسلمان اس علاقے یعنی حیرہ جسے مسلمانوں نے فتح کیا تھا اس سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جو انتہائی مشقت کے بعد ان کے ہاتھ آیا تھا۔چنانچہ حضرت خالد بن ولید نے فوج کو تیار ہونے کا حکم دیا۔31 چیزہ اور اس کے گرد و نواح میں جب حالات قابو میں آگئے اور امن بحال ہو گیا تو حضرت خالد نے حیرہ پر حضرت قعقاع بن عمر و تمیمی کو اپنا نائب مقرر کر کے خود حضرت عیاض بن غنم کی امداد کے لیے روانہ ہوئے۔حضرت عیاض بن غنم کو حضرت ابو بکر صدیق نے شمال سے عراق کی فتح کے لیے روانہ کیا تھا اور انہیں حضرت خالد بن ولید سے جاملنے کا حکم دیا تھا۔انبار کے لشکر کا سپہ سالار ساباط کا رئیس شیر زاد تھا۔وہ اپنے زمانے میں بڑا عقل مند ، معزز اور عرب و عجم میں ہر دلعزیز جمی تھا۔ساباط بھی مدائن میں ایک مشہور جگہ کا نام ہے۔بہر حال لکھا ہے کہ اہل انبار قلعہ بند ہو گئے اور ان لوگوں نے قلعہ کے ارد گرد خندق کھو دی ہوئی تھی جس کو پانی سے بھر دیا گیا تھا اور یہ خندق قلعہ کی دیوار کے بہت قریب تھی۔کوئی بھی مسلمان اگر اس کے قریب بھی ہوتا تو قلعہ کی دیواروں میں متعین مخالف سپاہی زبر دست تیر اندازی سے مسلمانوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتے۔وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ حضرت خالد اپنے لشکر کے اگلے حصہ کو لے کر وہاں پہنچے۔انہوں نے خندق کے اطراف ایک چکر لگایا، قلعہ کے دفاعی انتظامات کا جائزہ لیا اور اپنی خداداد فراست سے ایک منصوبہ بنایا۔حضرت خالد اپنے تیر اندازوں کے پاس گئے اور ایک ہزار تیر انداز منتخب کیسے جو بہت اچھے نشانہ باز تھے اور ان کو ہدایت کی اور کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ اصولِ جنگ سے بالکل نا آشنا ہیں۔تم لوگ صرف ان کی آنکھوں کو اپنے تیروں کا نشانہ بناؤ اور اس کے سوا کہیں اور نہ مارو۔چنانچہ ان 732