اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 307
اصحاب بدر جلد 2 307 حضرت ابو بکر صدیق سکے اور خود یہاں ٹھہر کر نظام امن و استقرار بحال کرنے میں لگ گئے۔آپ کی خبریں جاگیر داروں اور سرداروں کو ملیں۔وہ آپ سے مصالحت کے لیے آگے بڑھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ فتح پا رہے ہیں تو انہوں نے مصالحت کر لی۔سواد عراق اور اس کے اطراف میں کوئی باقی نہ رہا جس نے مسلمانوں کے ساتھ مصالحت یا معاہدہ نہ کر لیا ہو۔حضرت خالد ایک سال تک حیرہ میں مقیم رہے اور شام کی طرف روانگی سے قبل اس کے بالائی اور زیر میں علاقوں میں دورے کرتے رہے اور اہل فارس بادشاہ بناتے رہے اور معزول کرتے رہے۔730 ایرانی بادشاہ کے نام حضرت خالد کا ایک خط 729 یعنی اس کے مقابلے میں اہل فارس نے کیا کیا وہاں صرف بادشاہ بنتے رہے اور معزول ہوتے رہے۔جب عراق کی فضا سازگار ہو گئی اور جیزہ و دجلہ کے درمیان عرب علاقوں سے فارسی حکومت کے ختم ہو جانے سے پیچھے سے خطرہ باقی نہ رہا تو حضرت خالد نے براہ راست ایران پر حملہ آور ہونے کا عزم کر لیا اور اس دوران میں اردشیر کسری کے مر جانے سے ایرانی حکومت خلفشار کا شکار ہوئی۔ان کے در میان اس کے جانشین کے انتخاب کے سلسلہ میں سخت اختلاف رونما ہوا۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت خالد نے ان کے بادشاہوں اور امراء و خاص لوگوں کو خط لکھے۔ان بادشاہوں کو تحریر کرتے ہوئے فرمایا: خالد بن ولید کی جانب سے بادشاہان فارس کے نام۔اَمَّا بَعْدُ ! اللہ ہی کے لیے تمام حمد ہے جس نے تمہارے نظام کو توڑ دیا۔تمہاری چال ناکام کر دی۔تمہارے اندر اختلاف بر پا کر دیا۔تمہاری قوت کمزور کر دی۔تمہارے مال چھین لیے۔تمہارے غلبہ و عزت کو خاک میں ملا دیا۔لہذا جب تمہیں میرا یہ خط ملے اسلام قبول کرو، محفوظ و مامون رہو گے یا پھر معاہدہ کر کے جزیہ دینے پر راضی ہو جاؤ۔اگر اسلام قبول نہیں کرنا تو صلح کا معاہدہ کر لو اور جزیہ دینے پر راضی ہو جاؤ اور اگر ایسا کروگے تو ہم تمہیں اور تمہارا علاقہ چھوڑ کر دوسری طرف چلے جائیں گے۔ورنہ اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں ایسی فوج لے کر تمہارے پاس آؤں گا جو موت سے ایسی ہی محبت کرتی ہے جس طرح تم زندگی سے محبت رکھتے ہو اور آخرت میں اتنی ہی رغبت رکھتے ہیں جتنی رغبت تمہیں دنیا سے ہے۔اور ایرانی عمال و امرا کو خط تحریر کرتے ہوئے فرمایا۔خالد بن ولید کی طرف سے فارس کے امراء کے نام۔یہ خط خالد بن ولید کی طرف سے ایرانی عمال و امرا کے نام ہے تم لوگ اسلام قبول کر لو سلامت رہو گے یا جزیہ ادا کرو ہم تمہاری حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے ورنہ یاد رکھو کہ میں نے ایسی قوم کے ساتھ تم پر چڑھائی کی ہے جو موت کی اتنی ہی فریفتہ ہے جتنا تم شراب نوشی کے۔حیرہ کی فتح سے عراق کو فتح کرنے اور اس کو اسلامی سلطنت کے تابع کرنے سے متعلق حضرت ابو بکر کی آرزوؤں کا ایک حصہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا جو ایران پر براہ راست حملہ آور ہونے کی تمہید تھی۔حضرت خالد نے اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری اچھے طریقے سے ادا کی اور تھوڑی ہی مدت میں حیرہ تک