اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 283
تاب بدر جلد 2 283 حضرت ابو بکر صدیق مہا جڑ نے یہ شرط تسلیم کرلی۔جب اشعث نے نو افراد کے نام لکھے تو جلد بازی اور دہشت کی وجہ سے اپنا نام لکھنا بھول گیا۔پھر حضرت مہاجر کے پاس تحریر لے کر گیا جس پر انہوں نے مہر ثبت کر دی۔پھر اَشُعَث واپس چلا گیا۔جب اس نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا تو مسلمان اس میں داخل ہو گئے۔فریقین کی لڑائی میں سات سو کندی قتل کر دیے گئے۔قلعہ والوں نے بھی آگے سے مقابلہ کیا اور لڑائی کی۔بہر حال ان کے آدمی قتل کیے اور ایک ہزار عورتوں کو قید کر لیا گیا۔اس کے بعد حضرت مہاجر نے امان نامہ منگوایا اور اس میں درج تمام لوگوں کو معاف کر دیا مگر اس میں اشعث کا نام نہ تھا۔اس پر حضرت مہاجر نے ان کے قتل کا ارادہ کر لیا مگر حضرت عکرمہ کی درخواست پر اسے باقی قیدیوں کے ساتھ حضرت ابو بکر کی خدمت میں روانہ کر دیا کہ اس کے بارے میں بھی حضرت ابو بکر ہی فیصلہ فرمائیں۔جب مسلمان فتح کی خبر اور قیدیوں کے ساتھ حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اشعث کو طلب کیا اور فرمایا تم بنو ولیعہ کے فریب میں آگئے اور وہ ایسے نہیں کہ تم انہیں فریب دے سکو اور وہ بھی تمہیں اس کام کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔وہ خود ہلاک ہوئے اور تمہیں بھی ہلاک کیا۔کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تمہیں رسول اللہ صلی العلوم کی بددعا کا ایک حصہ پہنچا۔دراصل آنحضرت صلی علیکم نے کندہ قبیلے کے چار سرداروں پر لعنت کی تھی جنہوں نے اشعث کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا پھر مرتد ہو گئے۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟ اشعث نے آپ کی کہ کر کہا مجھے آپ کی رائے کا علم نہیں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ میرے خیال میں تمہیں قتل کر دینا چاہیے۔اس نے کہا میں وہ ہوں جس نے اپنی قوم کے دس آدمیوں کی جان بخشی کا تصفیہ کرایا ہے۔میرا قتل کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کیا مسلمانوں نے معاملہ تمہارے سپر د کیا تھا؟ اس نے کہا جی ہاں۔تو حضرت ابو بکر نے فرمایا: جب انہوں نے معاملہ تمہارے سپر د کیا اور پھر تم ان کے پاس آئے تو کیا انہوں نے اس پر مہر ثبت کی تھی۔اس نے کہا جی ہاں۔آپؐ نے فرمایا کہ تحریر پر مہر ثبت ہونے کے بعد صلح اس کے مطابق واجب ہو گئی جو اس میں تحریر تھا۔اس سے پہلے تم صرف مصالحت کی گفتگو کر رہے تھے۔جب اشعث ڈرا کہ وہ مارا جائے گا تو اس نے عرض کیا کہ اگر آپ مجھ سے کسی بھلائی کی توقع رکھتے ہیں تو ان قیدیوں کو آزاد کر دیجیے اور میری لغزشیں معاف فرمائیے اور میرا اسلام قبول کر لیجیے اور میرے ساتھ وہی سلوک روار کھیے جو مجھ جیسوں کے ساتھ آپ کیا کرتے ہیں اور میری بیوی میرے پاس واپس کوٹا دیجیے۔لکھا ہے کہ اس واقعہ سے قبل ایک مرتبہ اشعث رسول اللہ صلی ای کم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔اس نے حضرت ابو بکر کی بہن اُتم فروہ بنت ابو قحافہ کو پیغام نکاح دیا تھا۔حضرت ابو قحافہ نے اپنی لڑکی اس کی زوجیت میں دے دی تھی اور رخصتی کو اشعث کی دوبارہ آمد پر اٹھا رکھا تھا کہ دوبارہ آئے گا تو رخصتی ہو جائے گی۔ایک مصنف نے ام فروہ کو حضرت ابو بکر کی صاحبزادی بھی قرار دیا ہے۔بہر حال پھر رسول اللہ صلی علیہ کی وفات پاگئے اور اشعث مرتد اور باغی ہو گیا۔اس لیے اسے اندیشہ ہوا کہ اس کی بیوی اس کے حوالے نہ کی جائے گی۔اشعث نے حضرت ابو بکر سے عرض کیا کہ آپ مجھے اللہ کے دین کے لیے اپنے علاقے کے بہترین لوگوں میں پائیں گے۔اس پر حضرت ابو بکر نے اس کی جان بخش دی