اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 270

حاب بدر جلد 2 270 حضرت ابو بکر صدیق کریں۔حضرت عکاشہ نبی کریم صلی ا کرم کی وفات کے وقت حضر موت کے دو علاقوں سكلسك اور سکون پر عامل مقرر تھے اور بجیلہ قبیلہ کے پاس حضرت ابو بکر نے جریر بن عبد اللہ بجلی کو واپس بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کے ثابت قدم رہنے والے مسلمانوں کولے کر اسلام سے مرتد ہونے والوں سے قتال کریں اور پھر قبیلہ خشم کے پاس پہنچیں اور ان کے مرتدین سے قتال کریں۔جریر اپنی مہم پر روانہ ہوئے اور صدیق اکبر نے جو حکم دیا تھا اس کو بجالائے اور تھوڑے سے افراد کے علاوہ ان کے مقابلے میں کوئی نہ آیا۔آپ نے ان کو قتل کیا اور انہیں منتشر کر دیا۔648 حضرت مہاجر بن ابو امیہ کی مہم گیارھویں مہم کے بارہ میں لکھا ہے کہ یہ مہم مہاجر بن ابو امیہ کی یمن کے مرتد باغیوں کے خلاف تھی۔حضرت ابو بکر نے ایک جھنڈا حضرت مہاجر بن ابو امیہ کو دیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اسود عنسی کی فوج کا مقابلہ کریں اور ابناء کی مدد کریں جن سے قیس بن مكشوح اور دوسرے اہل یمن بر سر پیکار تھے۔اس وقت یمن میں دو اہم طبقے تھے۔ایک اصلی باشندے جن کا تعلق سبا اور جمیر کے خاندان سے تھا اور دوسرے فارسی آباء کی نسل جن کو ابناء کہتے تھے۔یہ ابناء اس وقت یمن کی سب سے مقتدر اقلیت تھے۔ایک عرصہ سے یمن کا حاکم کسریٰ کی حکومت کے ماتحت تھا۔اس لیے حکومت کے اکثر عہدے ابناء کو حاصل تھے۔بہر حال لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت مہاجر کو ہدایت دی کہ فارغ ہو کر کندہ قبیلے کے مقابلے کے لیے حضر موت چلے جانا۔649 حضر موت یمن سے مشرق کی طرف ایک وسیع علاقہ ہے جس میں بیسیوں بستیاں ہیں۔حضر موت اور صنعاء کے درمیان 216 میل کا فاصلہ ہے۔651 650 کندہ یمن کے ایک قبیلہ کا نام ہے۔حضرت مہاجر کے تعارف کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ کا نام مہاجر بن ابو امیہ بن مغیرہ بن عبد اللہ تھا۔حضرت مہاجر بن ابو امیہ ام المومنین حضرت ام سلمہ کے بھائی تھے۔آپ غزوہ بدر میں مشرکین کی طرف سے شامل ہوئے اور اس دن آپ کے دو بھائی ہشام اور مسعود قتل ہوئے۔آپ کا اصل نام ولید تھا جس کو نبی اکرم صلی لی ہم نے تبدیل کر دیا تھا۔652 الله سة ایک روایت میں ہے کہ مہاجر غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ کی اس غزوہ سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی الیہ ہم ان سے ناراض تھے۔ایک روز حضرت ام سلمہ آنحضور صلی علیہ ظلم کا سر دھو رہی تھیں تو انہوں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی بھی چیز کس طرح فائدہ پہنچا سکتی ہے جبکہ آپ میرے بھائی سے ناراض ہیں؟ جب حضرت ام سلمہ نے آپ صلی للی تم میں کچھ نرمی اور شفقت کے آثار دیکھے تو انہوں نے اپنی خادمہ کو اشارہ کیا اور وہ مہاجر کو بلا لائی۔مہاجر مسلسل اپنا عذ ربیان کرتے رہے یہاں تک کہ