اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 269 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 269

اصحاب بدر جلد 2 269 حضرت ابو بکر صدیق تفصیل نہیں ملتی تاہم کتب تاریخ میں اہل تہامہ کے ارتداد اور بغاوت کے حالات و واقعات یوں بیان ہوئے ہیں کہ نبی کریم علی علیم نے دس ہجری میں حجتہ الوداع کے بعد یمن میں محصلین زکوۃ مقرر فرمائے۔آنحضرت صلی علیم نے یمن کو سات حصوں میں تقسیم فرمایا تھا۔تہامہ پر طاہر بن ابو ہالہ کو عامل مقرر فرمایا ورض 647 646 تھا۔تہامہ میں ادنیٰ درجہ کے عربوں کے علاوہ دو بڑے اور اہم قبیلے تھے۔ایک ٹک اور دوسرا لن تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ سب سے پہلے حضرت عتاب بن اسید اور حضرت عثمان بن ابو العاص نے حضرت ابو بکر کو لکھا کہ ہمارے علاقے میں مرتدین نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا ہے۔مرتدین صرف مرتدین نہیں تھے بلکہ جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں یہ لوگ مسلمانوں پر حملے بھی کرتے تھے۔یہاں بھی یہی صور تحال تھی۔تو حضرت عتابے نے اپنے بھائی حضرت خالد بن اُسیڈ کو اہل تہامہ کی سرکوبی کے لیے بھیجا جہاں بنو مدلج کی ایک بڑی جماعت اور خُزاعہ اور کنانہ کی مختلف جماعتیں بنو مڈ لج کے خاندان بنو شنوق کے جندب بن سلمی کی سرکردگی میں مرتد ہو کر مقابلہ کے لیے جمع تھیں۔دونوں حریفوں کا مقابلہ ہوا اور حضرت خالد بن اُسیڈ نے ان کو شکست دے کر پراگندہ کر دیا اور بہت سارے افراد کو قتل کر دیا۔اس میں بنو شنوق کے افراد سب سے زیادہ مارے گئے۔اس واقعہ کے بعد ان کی تعداد بہت کم رہ گئی۔اس واقعہ نے حضرت عثا ہے کے علاقے کو فتنہ ارتداد سے پاک صاف کر دیا اور جندب بھاگ گیا۔پھر کچھ عرصہ بعد اس نے دوبارہ اسلام قبول کر لیا۔7 ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی الل ولم کے وصال کے بعد تہامہ میں سب سے زیادہ قبیلہ عک اور اشعر نے بغاوت کی اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب ان کو نبی کریم صلی ایم کی وفات کی اطلاع ملی تو ان میں سے متفرق لوگ جمع ہوئے اور پھر خَضَمُ قبیلہ کے لوگ بھی ان کے ساتھ جاملے۔انہوں نے ساحل سمندر کی جانب اغلاب مقام میں اپنا پڑاؤ ڈالا اور ان کے ساتھ وہ سپاہی بھی آملے جن کا کوئی سر دار نہ تھا۔اغلاب جو ہے یہ بھی مکہ کے ساحل کے درمیان قبیلہ تک کا علاقہ ہے۔حضرت طاہر بن ابو ہالہ نے حضرت ابو بکر کو اس کی اطلاع دی اور خود ان کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوئے اور اپنی روانگی کی اطلاع بھی انہوں نے حضرت ابو بکر کو لکھ دی۔حضرت طاہر کے ساتھ مسروق علی اور قبیلہ ملک میں سے ان کی قوم کے وہ افراد تھے جو مرتد نہیں ہوئے تھے۔یہاں تک کہ مقام اغلاب میں ان لوگوں سے جاملے اور وہاں ان سے شدید جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ، دشمنوں کو شکست دی۔مسلمانوں نے ان کو بے دریغ قتل کیا۔تمام راستوں میں ان کے مقتولین کی بدبو پھیل گئی اور مسلمانوں کو ایک شاندار فتح حاصل ہوئی۔تہامہ میں ارتداد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ایک مصنف نے لکھا ہے کہ تہامہ کے ارتداد کو کچلنے میں سر فہرست طاہر بن ابی ہالہ تھے جو رسول اللہ صلی علی کم کی جانب سے تہامہ کے لیے تہامہ کے حصہ پر والی تھے جو قبیلہ عک اور اشعریوں کا وطن تھا۔پھر ابو بکر نے عکاشہ بن ثور کو حکم دیا کہ وہ تہامہ میں اقامت پذیر ہوں اور اپنے پاس اس کے باشندوں کو اکٹھا کر کے حکم کا، حضرت ابو بکر کے حکم کا انتظار