اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 258 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 258

اصحاب بدر جلد 2 258 حضرت ابو بکر صدیق ہمارے نزدیک ان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔اور ہمیں ان پر سواروں اور پیادوں کے لحاظ سے اکثریت حاصل ہے۔آپ کسی آدمی کو بھیجیں جو اگر بحرین پر قبضہ کرنا چاہے تو کوئی اسے اس سے روک نہ سکے۔اس پر کسری نے ان سے کہا کہ تم کسے پسند کرتے ہو جسے میں تمہارے ساتھ بحرین روانہ کروں؟ انہوں نے کہا کہ جو بادشاہ سلامت پسند کریں۔کسری نے کہا کہ تم منذر بن نعمان بن منذر کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا: اے بادشاہ! ہم اسی کو پسند کرتے ہیں اور ہم اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں چاہتے۔پھر کسری نے منذر بن نعمان کو بلایا اور وہ نوجوان تھا جس کی ابھی تازہ تازہ داڑھی نکلی تھی۔بادشاہ نے اس کو خلعت سے نوازا اور تاج پہنایا اور ایک سو گھڑ سوار دیے اور مزید سات ہزار پیادے اور سوار دیے۔اسے قبیلہ بکر بن وائل کے ہمراہ بحرین جانے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ابو ضُبیعہ حُطم بن زید اس کا نام شریح بن ضُبَيْعَہ تھا یہ بنو قیس بن ثعلبہ میں سے تھا اور حطم اس کا لقب تھا اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد پھر ارتداد اختیار کر لیا تھا اور طبیان بن عمر و اور مسیح بن مالک بھی تھے۔626 سب سے پہلے انہوں نے جھاڑ وڈ اور قبیلہ عبدالقیس کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔اس پر حُطم بن ضُبیعہ نے طاقت کے زور سے انہیں زیر کرنا چاہا۔اس نے قطیف اور ھجر میں مقیم غیر ملکی تاجروں اور ان لوگوں کو جنہوں نے اس سے قبل اسلام قبول نہیں کیا تھا۔انہیں اپنے ساتھ ملالیا۔627 عبدالقیس قبیلے کے لوگ اپنے سردار حضرت جاز ود بن معلی کے پاس چار ہزار کی تعداد میں اپنے حلیفوں اور اپنے غلاموں کے ہمراہ اکٹھے ہوئے اور قبیلہ بکر بن وائل اپنے نو ہزار ایرانیوں اور تین ہزار عربوں کے ساتھ ان کے قریب ہوئے۔پھر فریقین کے درمیان شدید جنگ ہوئی اور قبیلہ بکر بن وائل کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ان میں سے اور ایرانیوں میں سے بہت سے قتل ہوئے۔پھر انہوں نے دوسری مرتبہ شدید قتال کیا۔اس مرتبہ عبد القیس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔اسی طرح وہ ایک دوسرے سے انتقام لیتے رہے اور ان کے درمیان کئی دنوں تک جنگ جاری رہی یہاں تک کہ بہت سے لوگ قتل ہو گئے اور عبد القیس قبیلے کے عوام نے بکر بن وائل سے امن کی درخواست کی۔اس وقت عبد القیس نے جان لیا کہ اب وہ بکر بن وائل کے خلاف کوئی طاقت نہیں رکھتے۔چنانچہ انہوں نے شکست کھائی یہاں تک کہ وہ ھجر کی سر زمین میں اپنے جواثا نامی قلعہ میں محصور ہو گئے۔جُوَاٹی جو اثا جو ہے یہ بھی بحرین کی وہ بستی ہے جہاں نبی صلی علیہ کم کی مسجد کے بعد سب سے پہلے جمعہ پڑھا گیا تھا۔چنانچہ بخاری میں ایک یہ روایت ہے جو حضرت ابن عباس سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ إِنَّ أَوَّلَ مُجَمعَةٍ جُمِعَتْ بَعْدَ جُمعَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللهِ فِي مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَالى مِنَ الْبَحْرَيْنِ که رسول اللہ صلی المی کم کی مسجد کے بعد سب سے پہلا جمعہ قبیلہ عبد القیس کی مسجد میں بحرین کی بستی جوائی میں ہو ا تھا۔بنو بکر بن وائل نے اپنے ایرانی لوگوں کے ساتھ پیش قدمی کی اور ان کے قلعہ تک پہنچ گئے اور ان کا محاصرہ کر لیا اور خوراک ان سے روک لی۔بنو بکر بن کلاب کے ایک شخص عبد اللہ بن عوف عبدی جس