اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 257
اصحاب بدر جلد 2 257 حضرت ابو بکر صدیق کی وفات کیوں ہوئی اور تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا کہ اے عبد القیس کے گروہ ! میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں۔اگر تم اسے جانتے ہو تو مجھے بتا دینا اور اگر تمہیں اس کا علم نہیں تو نہ بتانا۔انہوں نے کہا جو چاہو سوال کرو۔حضرت جاروڈ نے کہا جانتے ہو کہ گذشتہ زمانے میں اللہ کے نبی دنیا میں آچکے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں۔حضرت جاڑ وڑ نے کہا تمہیں ان کا علم ہے یا تم نے ان کو دیکھا بھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، ہم نے دیکھا تو نہیں لیکن ہمیں اس کا صرف علم ہے۔یہ لوگوں کا جواب تھا۔حضرت جارُ وڈ نے کہا پھر انہیں کیا ہوا ؟ تو لوگوں نے کہا کہ وہ فوت ہو گئے۔تو حضرت جاروڈ نے کہا اسی طرح محمد صل ا تم بھی فوت ہو گئے جس طرح وہ سب فوت ہو گئے اور میں اعلان کرتا ہوں کہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُہ کہ کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے اللہ کے اور یقینا محمد صلی ا یکم اس کے الله سة بندے اور اس کے رسول ہیں۔ان کی قوم نے ان کی یہ تقریر سننے کے بعد، سوال جواب کے بعد کہا کہ ہم بھی شہادت دیتے ہیں کہ سوائے اللہ کے کوئی حقیقی معبود نہیں اور بے شک محمد صلی للی کم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور ہم تم کو اپنا بر گزیدہ اور اپنا سر دار تسلیم کرتے ہیں۔اس طرح وہ لوگ اسلام پر ثابت قدم رہے اور ارتداد کی و با ان تک نہ پہنچی۔4 باقی عرب اور غیر عرب سب نے مدینہ کا اقتدار ختم کرنے کے لیے کمر ہمت باندھ لی۔ایرانی حکومت نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور بغاوت کی کمان ایک بڑے عرب لیڈر کو سونپ دی۔ھجر میں رسول اللہ صلی الم کے نمائندے ابان بن سعید بن عاص بغاوت کے سیاہ بادل اٹھتے دیکھ کر مدینہ چلے آئے۔625 624 بنو عبد القیس گوبظاہر ان میں سے بعض لوگ اسلام لے آئے تھے لیکن بحرین کے دوسرے قبائل محطم بن ضبیعہ کے زیر سر کردگی بدستور حالت ارتداد پر قائم رہے اور انہوں نے بادشاہی کو دوبارہ آل منذر میں منتقل کر کے منذر بن نعمان کو اپنا بادشاہ بنالیا۔ایک روایت میں ہے کہ جب انہوں نے مُنذر بن نعمان کو بادشاہ بنانے کا ارادہ کیا تو ان کے معززین اور سر داروں کی جماعت ایران کے بادشاہ کسری کے پاس پہنچی۔انہوں نے اس کے رُوبر و حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔اس نے ان کو اجازت دے دی اور وہ لوگ بادشاہوں کے شایانِ شان خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے سامنے حاضر ہوئے۔کسری نے کہا ! اے عرب کے گروہ! کون سی بات تمہیں یہاں لائی ہے ؟ انہوں نے کہا اے بادشاہ ! عرب کا وہ شخص فوت ہو گیا ہے جس کو قریش اور مضر کے جملہ قبائل معزز سمجھتے تھے۔اس سے ان کی مرادر سول اللہ صلی علی وکیل تھے۔اور پھر کہنے لگے کہ اس کے بعد ان کا جانشین ایک شخص کھڑا ہوا ہے جو کمزور بدن والا ضعیف الرائے ہے۔حضرت ابو بکر کے بارے میں انہوں نے یہ رائے دی۔اور اس کے عمال اپنے ساتھیوں کی طرف بغرض راہنمائی واپس چلے گئے ہیں۔آج بحرین کا علاقہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔سوائے عبد القیس کی چھوٹی سی جماعت کے کوئی بھی اب دین اسلام پر قائم نہیں ہے اور