اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 246

اصحاب بدر جلد 2 246 حضرت ابو بکر صدیق ہجری میں ستاسٹھ سال کی عمر میں طاعون عمواس میں وفات پائی۔84 بہر حال جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ عکرمہ نے حضرت ابو بکر کے حکم کے باوجود کہ حضرت شر خبیل کے پہنچنے سے پہلے حملہ نہ کرنا، انہوں نے جلدی کی اور حضرت شر خبیل کے آنے سے قبل ہی مسئلہ پر حملہ کر دیا تا کہ فتح کا سہرہ انہی کے سر بندھے تاہم مسیلمہ نے ان کو پیچھے دھکیل دیا اور حضرت عکرمہ نے اس ناکامی کی اطلاع جب حضرت ابو بکر کو دی تو جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے حضرت ابو بکر نے انہیں تنبیبی خط لکھا اور فرمایا کہ یہ شکست کا داغ لے کر مدینہ نہ آنا کہیں لوگوں میں بد دلی نہ پھیل جائے اور انہیں عمان کی طرف جانے کا حکم دیا۔حضرت شر خبیل بن حسنہ آ بھی راستہ میں ہی تھے کہ حضرت عکر مٹہ کی شکست کی خبر ان کو موصول ہوئی۔انہوں نے پیش قدمی بند کر دی اور حضرت ابو بکر کو نئی ہدایات کے لیے مرا بھیجا۔حضرت ابو بکڑ نے ان کو لکھا کہ تم جہاں ہو وہیں ٹھہرے رہو۔585 حضرت ابو بکر نے شر خبیل کو لکھا کہ تم یمامہ کے قریب ہی مقیم رہو یہاں تک کہ تمہیں میرا دوسرا حکم موصول ہو اور جس شخص یعنی مسیلمہ کے مقابلے کے لیے تم کو بھیجا ہے سر دست اس کا مقابلہ نہ کرو۔586 پھر جب حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت خالد بن ولید کو یمامہ کی مہم پر مامور کیا تو حضرت شر خبیل بن حسنہ کو حکم دیا کہ جب خالد بن ولید ا تم سے آملیں اور یمامہ کی مہم سے تم بخیر و خوبی فارغ ہو جاؤ تو قبیلہ قضاعہ کا رخ کرنا اور حضرت عمرو بن عاص کے ساتھ ہو کر قضاعہ کے ان باغیوں کی خبر لینا جو اسلام لانے سے انکار کریں اور اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوں۔صرف انکار نہیں ہے بلکہ مخالفت بھی ہے۔587 قضاعہ بھی عرب کا ایک مشہور قبیلہ تھا جو مدینہ سے دس منزل پر وادی القریٰ سے آگے مدائن صالح کے مغرب میں آباد تھا۔588 بہر حال حضرت ابو بکر صدیق کے ارشاد کے مطابق حضرت شر خبیل اپنے لشکر سمیت رکے رہے تاہم مسیلمہ نے ان پر اپنے لشکر کے ساتھ چڑھائی کر دی۔اس کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ ابھی حضرت خالد بن ولید یمامہ کے راستے ہی میں تھے کہ مسیلمہ کی فوج نے حضرت شر خبیل کی فوج سے نبرد آزمائی کی اور اسے پیچھے دھکیل دیا۔کچھ مورخین یہ لکھتے ہیں کہ حضرت شرحبیل نے بھی وہی غلطی کی جو اس سے قبل ان کے پیش رو حضرت عکرمہ کر چکے تھے یعنی مسیلمہ پر فتح یابی کا مقام خود حاصل کرنے کے شوق میں آگے بڑھے لیکن انہیں بھی شکست کھا کر پیچھے ہٹنا پڑا تاہم واقعہ ایسا نہیں ہے بلکہ خود یمامہ کے لشکر نے اس خیال سے کہ کہیں حضرت شر خبیل حضرت خالد سے مل کر انہیں نقصان نہ پہنچائیں آگے بڑھ کر لشکر پر حملہ کر دیا اور شکست دے کر انہیں پیچھے ہٹانے میں کامیاب رہا۔دونوں میں سے کوئی بات ہوئی ہو مگر واقعہ یہی ہے کہ حضرت شر خبیل اپنے لشکر لے کر پیچھے ہٹ گئے۔جب