اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 245

صحاب بدر جلد 2 245 حضرت ابو بکر صدیق اسے دو چادریں دے دو اور اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔چنانچہ اس کے بعد اسے مہر کے حصہ کے علاوہ بطور احسان دور از قی چادر میں دینے کا بھی حکم دیا۔بڑی اچھی سفید لمبی سوتی چادریں تھیں تا کہ قرآن کریم کا حکم وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ پورا ہو جو ایسی عورتوں کے متعلق ہے جن کو بلا صحبت طلاق دے دی جائے۔اور آپ نے اسے رخصت کر دیا اور ابواسیڈ ہی اس کو اس کے گھر پہنچا آئے۔اس کے قبیلے کے لوگوں پر یہ بات نہایت شاق گزری اور انہوں نے اس کو ملامت کی مگر وہ یہی جواب دیتی رہی کہ یہ میری بد بختی ہے اور بعض دفعہ اس نے یہ بھی کہا کہ مجھے ورغلایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جب رسول کریم صلی علیہ یکم تیرے پاس آئیں تو تم پرے ہٹ جانا اور نفرت کا اظہار کرنا اس طرح ان پر تمہارا رعب قائم ہو جائے گا۔معلوم نہیں یہی وجہ ہوئی یا کوئی اور ، بہر حال اس نے نفرت کا اظہار کیا اور رسول کریم صلی ال یکم اس سے علیحدہ ہو گئے اور اسے رخصت کر دیا۔1 581 میں ایک صحابی حضرت اسید کے ذکر میں یہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔582 بہر حال حضرت فکر می کندہ، حضر موت سے یمن اور مکہ کے راستے واپس ہوئے۔جب آپ مدینہ پہنچے تو حضرت ابو بکر نے آپ کو حکم دیا کہ خالد بن سعید کی مدد کے لیے روانہ ہو جائیں۔حضرت عکرمہ نے اپنی فوج کو جس نے آپ کے ساتھ ارتداد کی جنگوں میں شرکت کی تھی چھٹی دے دی تھی۔حضرت ابو بکر نے ان کے بدلے دوسری فوج تیار کی۔اس لیے چھٹی دے دی کہ اب تم لوگ تھک گئے ہو گے ، کافی بڑی مہمات کر کے آئے ہو۔بہر حال حضرت ابو بکر نے دوسری فوج تیار کی اور انہیں حکم دیا کہ مگر منہ کے پرچم تلے شام کے لیے روانہ ہو جائیں۔583 وہاں حضرت عکرمہ نے جو کار ہائے نمایاں سر انجام دیے اور بڑی دلیری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا اس کی تفصیل ان شاء اللہ شام کی مہمات میں بیان ہو جائے گی۔حضرت شرحبیل بن حسنہ کی مہم پھر پانچویں مہم جو تھی حضرت بشر خبیل بن حسنہ کی مرتد باغیوں کے خلاف مہم تھی۔حضرت ابو بکر نے حضرت عکرمہ کو مسیلمہ کی طرف یمامہ کے علاقے میں بھیجا اور ان کے پیچھے حضرت شر خبیل بن حسنہ کو بھی یمامہ کی طرف روانہ فرمایا۔حضرت شُر خبیل بن حسنہ کا مختصر تعارف یہ ہے کہ حضرت شر خبیل بن حسنہ کے والد کا نام عبد اللہ بن مطاع تھا اور والدہ کا نام حسنہ تھا۔بعض لوگوں انہیں کندی اور بعض تمیمی کہتے ہیں۔شر خبیل کے والد بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اور یہ اپنی والد ہ حسنہ کے نام پر شر خبیل بن حسنہ کہلائے۔حضرت شر خبیل ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔آپ نے اپنے بھائیوں کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور جب حبشہ سے واپس آئے تو مدینہ میں آپ بنو ز ریق کے مکانوں میں قیام پذیر ہوئے۔خلافتِ راشدہ میں یہ مشہور سپہ سالاروں میں سے ایک تھے۔اٹھارہ