اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 231
صحاب بدر جلد 2 231 حضرت ابو بکر صدیق تیرا بُرا ہو تُو نے مجھے دھوکا دیا ہے۔مُجاعہ نے کہا یہ میری قوم کے لوگ ہیں ان کو بچانا میرے لیے ضروری تھا۔اس کے علاوہ میں اور کیا کر سکتا تھا۔اس کے بعد حضرت ابو بکر کا خط حضرت خالد کو پہنچا کہ ہر بالغ کو قتل کر دیا جائے لیکن یہ خط اس وقت پہنچا کہ جب حضرت خالد ان لوگوں سے صلح کر چکے تھے اس لیے انہوں نے اپنے عہد کو پورا کیا اور بد عہدی نہیں کی۔3 جنگ یمامہ کی فتح کی خبر اور حضرت ابو بکر مٹی سجدہ شکر 553 ان کی جان کی امان دے دی تھی چنانچہ حضرت خالد بن ولید نے مسلمانوں کی حالت اور صلح کی وجہ بتانے کے لیے حضرت ابو بکر کی طرف ایک خط بھیجا جس کو پڑھ کر حضرت ابو بکر مطمئن اور خوش ہو گئے۔جب حضرت خالد صلح کے معاہدے سے فارغ ہوئے تو آپ نے قلعوں کے متعلق حکم دیا چنانچہ وہاں آدمی مقرر کر دیے گئے۔مجلہ نے اللہ کی قسم کھائی کہ جن چیزوں پر صلح ہوئی ہے ان میں سے کوئی بھی چیز آپ سے پوشیدہ نہیں رہے گی اور جو بھی کسی پوشیدہ چیز کو جانے والا ہو گا اس کی خبر خالد تک پہنچائی جائے گی۔پھر قلعے کھول دیے گئے ، بہت زیادہ اسلحہ بر آمد ہوا جسے خالد نے علیحدہ اکٹھا کر لیا اور ان قلعوں میں سے جو دینار اور درہم ملے انہیں بھی الگ جمع کر لیا گیا اور ان کی زرہیں جمع کی گئیں۔پھر قیدی باہر نکالے گئے اور ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔پھر مالِ غنیمت کی قرعہ اندازی کی گئی اور زر ہوں اور بیڑیوں اور سونے چاندی وغیرہ کا وزن کیا گیا اور خمس الگ کیا گیا۔خمس کا چوتھا حصہ لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔گھڑ سواروں کے لیے دوحصے مقرر کیے گئے اور گھوڑے کے مالک کے لیے ایک حصہ مقرر کیا گیا اور ان سب میں سے بھی خمس الگ کیا گیا اور یہ سارا خمس حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں بھجوا دیا گیا۔554 اس کے بعد بنو حنیفہ بیعت کرنے اور مسیلمہ کی نبوت سے لا تعلقی کا اظہار کرنے کے لیے جمع ہوئے۔یہ تمام لوگ حضرت خالد بن ولید کے پاس لائے گئے جہاں انہوں نے بیعت کی اور اپنے دوبارہ اسلام لانے کا اعلان کیا۔حضرت خالد بن ولید نے ان کا ایک وفد حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں مدینہ منورہ روانہ فرمایا۔جب وہ لوگ حضرت ابو بکر کے پاس پہنچے تو حضرت ابو بکر نے بڑا تعجب کا اظہار کیا کہ آخر تم لوگ مسیلمہ کے پھندے میں پھنس کس طرح گئے اور گمراہ ہو گئے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے خلیفہ رسول! ہمارے تمام حال سے آپ اچھی طرح آگاہ ہیں۔مسیلمہ نہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچا سکا اور نہ اس کے رشتے داروں اور قوم کو اس سے کوئی فائدہ حاصل ہو سکا۔555 حضرت ابو بکر صدیق کی ایک خواب کا ذکر ہے۔حضرت ابو بکر نے جب حضرت خالد کو یمامہ کی طرف روانہ فرمایا تو آپ نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ کے پاس ھجر بستی ہے اس کی کھجوروں میں سے کھجور میں لائی گئیں۔آپ نے ان میں سے ایک کھجور کھائی اس کو آپ نے گٹھلی پایا جو کھجور کی شکل میں تھی۔بڑی سخت تھی کھجور نہیں تھی بلکہ گٹھلی تھی۔کچھ دیر آپ نے اس کو چبایا پھر اس کو پھینک دیا۔آپ نے اس خواب کی تعبیر یہ فرمائی، فرمایا کہ خالد کو اہل یمامہ کی طرف سے شدید مقابلے کا سامنا کرنا