اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 230
صحاب بدر جلد 2 230 حضرت ابو بکر صدیق محمود بن لبید سے روایت ہے کہ جب حضرت خالد نے اہل یمامہ کو قتل کیا تو مسلمان بھی اس جنگ میں بڑی تعداد میں شہید ہوئے یہاں تک کہ اکثر صحابہ رسول شہید ہو گئے اور مسلمانوں میں سے جو زندہ بچ گئے تھے ان میں بہت زیادہ زخمی تھے۔552 مجاعہ کا فریب جب حضرت خالد کو مسیلمہ کے قتل کی خبر دی گئی تو وہ مجالئہ کو بیٹریوں میں جکڑ کر ساتھ لائے تاکہ مسیلمہ کی شناخت کروائیں۔وہ لاشوں میں اسے دیکھتا رہا مگر وہاں مسیلمہ نہ ملا۔پھر وہ باغ میں داخل ہو ا تو ایک پستہ قد، زرد رنگ، چپٹی ناک والے آدمی کی لاش نظر آئی تو مجاعہ نے کہا یہ مسیلمہ ہے جس سے تم فراغت حاصل کر چکے ہو۔اس پر حضرت خالد نے کہا یہ ہے وہ آدمی جس نے تمہارے ساتھ یہ سب کچھ کیا ہے۔مجلہ کیونکہ قید تھا، بنو حنیفہ کا نمائندہ تھا، سردار تھا۔اس لیے ان کو بچانا بھی چاہتا تھا۔مرد تو اکثر مر چکے تھے لیکن اس نے ایک چال چلی۔باقی جو لوگ قلعہ میں بند تھے ان کو بچانے کے لیے اس نے فریب کیا اور حضرت خالد بن ولیڈ سے ایک صلح کا معاہدہ کیا۔اس نے حضرت خالد بن ولیڈ سے کہا کہ یہ لوگ جو تمہارے مقابلے میں جنگ کے لیے نکلے تھے یہ تو صرف جلد باز لوگ تھے جبکہ قلعے تو ابھی بھی جنگجوؤں سے بھرے ہوئے ہیں۔حضرت خالد نے کہا تم پر ہلاکت ہو تم یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ اس پر مُجائہ نے کہا بخدا ! جو کہہ رہا ہوں بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔پس آؤ اور میرے پیچھے موجود میری قوم کی طرف سے مجھ سے صلح کر لو۔دھو کے سے اس نے یہ باتیں کیں بہر حال آگے اس کا واضح بھی ہو جائے گا۔حضرت خالد اس ہولناک جنگ میں مسلمانوں کو جس قدر جانی نقصان دیکھ چکے تھے اس کے پیش نظر انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ اب جبکہ بنو حنیفہ کا سر دار اور اصل باغی سرغنہ مع اپنے ساتھیوں کے مارا جا چکا ہے تو اب مسلمانوں کا مزید جانی نقصان نہ ہی کروایا جائے تو بہتر ہے چنانچہ حضرت خالد نے صلح کے لیے رضا مندی ظاہر کر دی۔حضرت خالد کی طرف سے صلح کی ضمانت لے کر مُجالہ نے کہا میں ان کے پاس جاکر ان سے مشورہ کر تا ہوں پھر وہ ان لوگوں کے پاس گیا جبکہ مُجاءَ اچھی طرح جانتا تھا کہ قلعوں میں سوائے عورتوں بچوں اور انتہائی عمر کو پہنچے ہوئے بوڑھوں اور کمزوروں کے کوئی بھی نہیں تھا۔اس نے انہیں زرہیں پہنائیں اور عورتوں سے کہا کہ میری واپسی تک وہ قلعے کی دیواروں پر چڑھ جائیں۔پھر وہ حضرت خالد کے پاس آیا اور کہا کہ جس شرط پر میں نے صلح کی تھی وہ اس کو قبول نہیں کرتے۔جب حضرت خالد نے قلعوں کی طرف دیکھا تو وہ آدمیوں سے بھرے ہوئے نظر آئے۔زرہیں پہنا کے عور تیں وغیرہ وہاں بٹھا آیا تھا۔اس جنگ نے مسلمانوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا اور لڑائی بہت طویل ہو گئی تھی اس لیے مسلمان یہ چاہتے تھے کہ وہ فتح حاصل کر کے واپس چلے جائیں کیونکہ ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔اس لیے حضرت خالد نے نسبتا نرم شرائط پر سونے، چاندی، اسلحہ اور نصف قیدیوں پر صلح کر لی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک چوتھائی پر صلح کی تھی۔جب قلعوں کے دروازے کھولے گئے تو ان میں سوائے عورتوں بچوں اور کمزوروں کے کوئی بھی نہیں تھا۔اس پر حضرت خالد نے مجلہ سے کہا