اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 224

حاب بدر جلد 2 224 حضرت ابو بکر صدیق جب مسلمان ہٹتے تو وہ لوگ آگے بڑھتے تاکہ مُجامہ تک پہنچ سکیں۔سالم مولیٰ ابو حذیفہ نے اپنی نصف پنڈلیوں تک گڑھا کھودا۔ان کے پاس مہاجرین کا جھنڈا تھا اور ثابت نے بھی اسی طرح کا گڑھا اپنے لیے کھو دا۔پھر ان دونوں نے اپنے جھنڈوں کو اپنے ساتھ چمٹالیا اور لوگ ہر طرف پراگندہ ہو گئے تھے۔یعنی گڑھا کھود کے اس میں خود کھڑے ہو گئے اور جھنڈے اپنے ساتھ لگا لیے جبکہ سالم اور ثابت اپنے جھنڈوں کے ساتھ قائم رہے یہاں تک کہ سالم" شہید ہو گئے اور ابو حذیفہ بھی شہید ہو گئے۔حضرت ابو حذیفہ کا سر سالم کے قدموں میں تھا اور سالم کا سر حضرت ابو حذیفہ کے قدموں میں تھا۔جب سالم شہید ہو گئے تو جھنڈا کچھ دیر اسی طرح پڑا رہا۔کسی نے اسے اٹھایا نہیں۔پھر یزید بن قیس نے جو بدری صحابی تھے وہ آگے بڑھے اور انہوں نے اس جھنڈے کو اٹھا لیا یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔پھر حکم بن سعید بن عاص نے اس جھنڈے کو اٹھایا اور اس کی حفاظت میں سارا دن لڑتے رہے۔پھر وہ بھی شہید ہو گئے۔وخی کہتے ہیں کہ شدید لڑائی ہوئی۔تین مرتبہ مسلمانوں کے قدم اکھڑے۔چوتھی مرتبہ مسلمانوں نے پلٹ کر حملہ کیا اور ان کے قدم جم گئے اور وہ تلواروں کے سامنے ڈٹ گئے۔بنو حنیفہ اور ان کی تلواریں ایک دوسرے پر پڑنے لگیں یہاں تک کہ میں نے آگ کی چنگاریاں ان میں سے نکلتی ہوئی دیکھیں اور ان کی گھنٹی کی طرح کی آوازیں سنیں۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنی مد د نازل کی اور بنی حنیفہ کو اللہ تعالیٰ نے شکست دی اور اللہ نے مسیلمہ کو قتل کر دیا۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس روز اپنی تلوار خوب چلائی یہاں تک کہ وہ تلوار میرے ہاتھ میں دستے تک خون سے بھر گئی۔حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار کو ایک چٹان پر چڑھے ہوئے دیکھا، وہ پکار رہے تھے کہ اے مسلمانوں کے گروہ! کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں میری طرف آؤ۔راوی کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ ان کا کان کٹ کر لٹک رہا تھا۔ابو خَيْقَمَهِ نَتَجارِی کہتے ہیں جب مسلمان جنگ یمامہ کے دن پراگندہ ہو گئے تو میں ایک طرف ہٹ گیا اور میری آنکھوں کے سامنے یہ منظر ہے کہ میں اس دن حضرت ابو دجانہ کو دیکھ رہا تھا۔ان کا نام سماک بن خَر شَہ تھا اور ابو دجانہ کی کنیت سے معروف تھے۔یہ وہ مشہور صحابی ہیں جو آنحضرت صلی یکم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور غزوہ احد میں آنحضرت صلی اللہ کریم نے ایک تلوار ہاتھ میں لے کر کہا: اس کا حق کون ادا کرتا ہے ؟ ابو دجانہ بولے میں ادا کروں گا۔آنحضرت صلی ال یکم نے ان کو وہ تلوار عنایت فرمائی اور بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے دریافت کیا کہ اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ مسلمان کو نہ مارنا اور کافر سے نہ بھاگنا۔حضرت ابودجانہ نے حسب معمول سر پر سرخ پٹی باندھی اور فخریہ انداز سے اکڑتے ہوئے صفوں کے درمیان آکر کھڑے ہوئے۔آنحضرت صلی الم نے فرمایا: یہ چال اگر چہ خدا کو نا پسند ہے لیکن ایسے موقع پر کچھ حرج نہیں۔معرکہ کارزار میں نہایت پامردی سے مقابلہ کیا اور بہت سے کافر قتل کیے اور رسول اللہ صلی اللی علم کی حفاظت میں بہت سے زخم کھائے لیکن