اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 223 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 223

اصحاب بدر جلد 2 223 حضرت ابو بکر صدیق نکلا۔پھر اس کا حال ہو ا جو ہوا۔آگے بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص دیوار کے شگاف میں را ہے ایسا معلوم ہو تا تھا کہ جیسے گندمی رنگ کا اونٹ ہے۔سر کے بال پراگندہ ہیں۔میں نے اس کو اپنا رچھا مارا اور اسے اس کی چھاتیوں کے درمیان مارا یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان سے نکل گیا۔بہر حال یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد انصار میں سے ایک شخص اس کی طرف لپکا اور اس کی کھوپڑی پر تلوار کی ضرب لگائی۔راوی سلیمان بن یسار نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ جب مسیلمہ مارا گیا تو ایک لڑکی جو اس گھر کی چھت پر تھی بولی۔امیر المومنین یعنی مسیلمہ کو کانے غلام نے مار ڈالا ہے۔یہ بخاری کی روایت ہے۔خشی کہتے ہیں کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم دونوں یعنی انصاری صحابی اور حضرت وخشی میں سے کس نے مسیلمہ کو قتل کیا لیکن اگر میں نے ہی اسے مارا ہے تو رسول اللہ صلی علیکم کے بعد سب سے بہترین یعنی حضرت حمزہ کے قتل کا ارتکاب بھی میں نے کیا تھا اور سب سے بدترین شخص کو بھی میں نے ہی مارا۔549 صحیح بخاری کی روایت میں آنحضور صلی ا ہم نے وحشی کو جو یہ فرمایا تھا کہ ”کیا تمہارے لیے ممکن ہے کہ تم میرے سامنے نہ آؤ ؟ “ اس کی شرح میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ وختی میں جو تبدیلی پید اہوئی وہ ان کے اخلاص پر دلالت کرتی ہے۔ان کی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح اپنی غلطی کا کفارہ دیں۔چنانچہ یمامہ کی ہولناک جنگ میں اپنی یہ خواہش اور نذر پوری کر کے سرخرو ہوئے۔شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیم کے الفاظ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيْبَ وَجْهَكَ عَلَى “ 66 کیا تمہارے لیے ممکن ہے کہ تم میرے سامنے نہ آؤ ؟ ” بہت بلند اخلاق کے آئینہ دار ہیں“ یہ الفاظ۔وحشی سے خواہش کا اظہار کیا کہ اگر تجھ سے ہو سکے تو میرے سامنے نہ آیا کرو۔یہ لب ولہجہ آمرانہ نہیں بلکہ التماس کا لب ولہجہ ہے اور اس سے اس محبت و عزت کا پتہ چلتا ہے جو حضرت حمزہ کے لئے آپ کے دل میں تھی۔ایک منتقم مزاج انتقام لے کر دل ٹھنڈ ا کر سکتا تھا مگر آپ نے عفو سے کام لیا۔صرف اتنا چاہا کہ وہ آپ کے سامنے نہ آئے تا حضرت حمزہ کی درد ناک شہادت کی یاد سے آپ کے دل کو تھیں نہ پہنچے۔550" جنگ یمامہ اور مسلمانوں کی جرآت اور دلیری اسی جنگ یمامہ کی تفصیل ایک اور جگہ بیان ہوئی ہے جس میں مسلمانوں کی طرف سے جرات اور دلیری کا ذکر اس طرح بیان ہوا ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی یہاں تک کہ دونوں گروہوں کے بہت سے لوگ قتل اور زخمی ہو گئے۔مسلمانوں میں سے سب سے پہلے مالک بن اوس شہید ہوئے۔مسلمانوں میں سے حفاظ قرآن بھی کثرت سے شہید ہو گئے۔دونوں لشکروں میں گھمسان کارن پڑا یہاں تک کہ مسلمان مسیلمہ کے لشکر میں اور مسیلمہ کا لشکر مسلمانوں کے لشکر سے جاملا۔