اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 217
ناب بدر جلد 2 217 حضرت ابو بکر صدیق سے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم بنو حنیفہ سے ہیں۔مسلمانوں نے سمجھا کہ وہ خالد کی طرف مسیلمہ کے ایلچی ہیں۔جب صبح ہوئی اور لوگ آمنے سامنے ہوئے تو مسلمان ان لوگوں کو لے کر حضرت خالد کے پاس آئے۔حضرت خالد نے جب انہیں دیکھا تو انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ وہ لوگ مسیلمہ کے اینچی ہیں۔آپ نے ان سے پوچھا کہ اے بنو حنیفہ ! اپنے صاحب یعنی مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو۔انہوں نے گواہی دی کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔حضرت خالد نے مُجاعَہ سے پوچھا تم کیا کہتے ہو۔اس نے جواب دیا بخدا ! میں تو بنو نُمیر کے ایک شخص کی تلاش میں نکلا تھا جس نے ہمارے قبیلہ میں قتل کیا تھا اور میں مسیلمہ کے قریبیوں میں سے نہیں ہوں۔بہر حال اس وقت وہ خوف سے یا کسی وجہ سے اپنی بات سے مکر گیا۔میں رسول اللہ صلی اللی علم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور میں نے اسلام قبول کیا تھا اور ابھی بھی اسی حالت پر ہوں۔باقی لوگ بھی لائے گئے۔حضرت خالد نے ان سب کو قتل کروا دیا یہاں تک کہ جب ساريه بن مسیلمہ بن عامر باقی رہ گیا تو اس نے کہا اے خالد ! اگر تم اہل یمامہ کے بارے میں کوئی خیر یاشر چاہتے ہو تو مجماعہ کو زندہ رکھو کیونکہ یہ جنگ اور امن کے ایام میں تمہارا مددگار ہو گا اور مجاعہ ایک سردار ہے۔آپ کو ساریہ کی یہ بات پسند آئی۔آپ نے اسے بھی زندہ رکھا۔آپ نے اسے قتل نہیں کیا اور ان دونوں کے متعلق حکم دیا کہ انہیں لوہے کی بیڑیوں سے باندھ دیا جائے۔آپ مُجاعَہ کو بلاتے تھے اور وہ بیڑیوں میں ہی ہو تا تھا اور اس کے ساتھ گفتگو کرتے۔مُجاعَہ یہ سمجھتا تھا کہ حضرت خالد اس کو قتل کر دیں گے۔اسی دوران جبکہ وہ دونوں باتیں کر رہے تھے کہ مُجاعَہ نے آپ سے کہا کہ اے ابن مغیرہ (یہ خالد بن ولید کی کنیت تھی) میں مسلمان ہوں۔اللہ کی قسم ! میں نے کفر نہیں کیا۔میں رسول کریم صلی میم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ کے پاس سے مسلمان ہو کر نکلا تھا اور اب میں جنگ کے لیے نہیں نکلا۔پھر نمیری کو تلاش کرنے کی بات اس نے دہرائی۔حضرت خالد نے کہا قتل اور چھوڑ دینے کے درمیان تھوڑا فاصلہ ہے یعنی قید۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہماری جنگ میں فیصلہ فرمادے جس کا وہ فیصلہ کرنے والا ہے اور آپ نے اس کو اپنی بیوی کے سپرد کر دیا جس سے آپ نے مالک بن نویرہ کے قتل کے بعد شادی کی تھی۔اسے حکم دیا کہ قید میں اس کا اچھا خیال رکھے۔مُجاعَہ نے سمجھا کہ خالد اس کو قید کرنا چاہتے ہیں تا کہ وہ انہیں دشمن کا پتہ بتائے اور اس کی خبر دے۔اس نے کہا آپ جانتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی اسلام پر بیعت کی۔بار بار یہی بات وہ دہراتا تھا۔پھر میں اپنی قوم کی طرف واپس لوٹا اور آج بھی میری وہی حالت ہے۔لیکن آگے جو واقعات ہیں ان سے پتہ لگتا ہے یہ سب غلط بیانی تھی۔کہتا ہے آج بھی میری وہی حالت ہے جو کل تھی۔7 537