اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 216

ناب بدر جلد 2 216 حضرت ابو بکر صدیق حضرت شرحبیل نما مسیلمہ سے مقابلہ حضرت ابو بکر نے حضرت شر خبیل کو کسی دوسرے حکم کے آنے تک وہیں ٹھہرنے کا حکم دیا۔پھر حضرت خالد بن ولید کو یمامہ کی طرف بھیجنے سے پہلے شر خبیل کو لکھا کہ جب خالد تمہارے پاس آئیں اور یمامہ کی مدد سے فارغ ہو جاؤ تو قضاعہ کا رخ کرنا اور حضرت عمر و بن عاص کے ساتھ ہو کر قضاعہ 534 کے ان باغیوں کی خبر لینا جو اسلام لانے سے انکار کریں اور اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوں۔533 صرف انکار نہیں ہے بلکہ مخالفت بھی ہے۔حضرت شرحبیل نے بھی حضرت ابو بکر کی ہدایت کے برعکس حضرت عکرمہ کی طرح جلد بازی سے کام لیا اور حضرت خالد کے ان تک پہنچنے سے پہلے ہی مسیلمہ سے لڑائی شروع کر دی مگر انہیں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا جس پر حضرت خالد نے ان سے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کی مدد کے لیے حضرت سلیط کی قیادت میں مزید کمک بھی روانہ فرمائی تاکہ وہ ان کے عقب کی حفاظت کرے۔حضرت خالد بن ولید کا مسیلمہ سے مقابلہ کے لئے روانہ ہونا اور مجاعه بن مُرارہ کی گرفتاری حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کو مسیلمہ کی طرف بھیجا اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کرنے کے لیے مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت بھی روانہ فرمائی۔حضرت ابو بکر نے انصار پر حضرت ثابت بن قیس اور مہاجرین پر حضرت ابو حذیفہ اور زید بن خطاب کو امیر مقرر فرمایا اور اس طرح جتنے قبائل تھے ان میں سے ہر قبیلے پر ایک آدمی کو نگران بنایا۔حضرت خالد بکاخ مقام پر اس لشکر کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔بکاخ بنی تمیم کے علاقے میں ایک جگہ۔بہر حال جب یہ سب حضرت خالد کے پاس پہنچ گئے تو وہ یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔بنو حنیفہ اس دن بہت زیادہ تھے۔ان کی تعداد چالیس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھی۔یمامہ کے یہ لوگ جو مسیلمہ کے ساتھ تھے ان کی تعداد چالیس ہزار تھی یا ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ تھی جبکہ مسلمان دس ہزار سے زائد تھے۔بہر حال وہاں جب یہ جنگ شروع ہوئی تھی تو اس بڑے معرکے سے پہلے ہی مسلمانوں نے بنو حنیفہ کے ایک سردار کو گر فتار کر لیا۔چنانچہ ایک روایت میں ذکر ہے کہ مُجاعَہ بن مُرارہ جو کہ بنو حنیفہ کا ایک سردار تھا ایک گروہ کے ساتھ باہر نکلا تو مسلمانوں نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ لیا۔حضرت خالد رض 535 536 نے اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا اور مُجاعَہ کو زندہ رکھا کیونکہ بنو حنیفہ میں اس کی بہت عزت تھی۔اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ حضرت خالد جب عارِض مقام پر اترے تو انہوں نے دو سو گھڑ سوار آگے بھیجے اور فرمایا جو لوگ بھی تمہیں ملیں انہیں پکڑ لیں۔وہ گھڑ سوار روانہ ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے مجاعه بن مراره حنفی کو اس کے تئیں ہم قبیلہ افراد کے ساتھ پکڑ لیا جو بنو تمیر کے ایک شخص کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔وہ باہر نکلے تھے اور انہیں خالد کے آنے کا علم نہیں تھا۔مسلمانوں نے ان