اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 208
حضرت ابو بکر صدیق حاب بدر جلد 2 اس پر طعن و 208 اس کا مطلب یہ ہوا کہ نعوذ باللہ یہ شادی نہیں بلکہ زنا تھا لیکن یہ قول من گھڑت اور صریح جھوٹ ہے۔اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ قدیم مراجع مصادر میں اس کی طرف اشارہ تک نہیں ملتا۔جو بھی روایتیں ہیں یا سورسز (Sources) ہیں ان میں کوئی ثبوت نہیں جو ثابت ہو رہا ہو۔علامہ ماؤر دی فرماتے ہیں کہ خالد نے مالک بن نویرہ کو اس لیے قتل کیا تھا کہ اس نے زکوۃ روک لی تھی جس کی وجہ سے اس کا خون حلال ہو گیا تھا اور اس کی وجہ سے ام تمیم سے اس کا نکاح فاسد ہو گیا تھا اور یر تدین کی عورتوں کے سلسلہ میں شرعی حکم یہ ہے کہ جب وہ دارالحرب سے جاملیں تو ان کو قید کیا جائے قتل نہ کیا جائے۔جیسا کہ امام سرخسی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔جب ام تمیم قیدی بن کر آئی تو خالد نے اس کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور جب وہ حلال ہو گئی تب اس نے اس سے ازدواجی تعلقات قائم کیے اور شیخ احمد شاکر اس مسئلہ پر تعلیق چڑھاتے ہوئے کہتے ہیں، مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خالد نے ام تمیم اور اس کے بیٹے کو ملک یمین کے طور پر لیا تھا کیونکہ وہ جنگی قیدی تھیں اور اس طرح کی خواتین کے لیے کوئی عدت نہیں۔اگر وہ حاملہ ہو تو وضع حمل تک اس کے مالک کا اس کے قریب ہونا حرام ہے۔اگر حاملہ نہیں ہے تو صرف ایک مرتبہ حیض آنے تک دور رہے گا۔پر مشروع اور جائز ہے و تشنیع کی گنجائش نہیں لیکن خالد کے مخالفین اور دشمنوں نے اس موقع کو اپنے لیے غنیمت سمجھا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ مالک بن نویرہ مسلمان تھا اور خالد نے اس کو اس کی بیوی کے لیے قتل کر دیا۔اسی طرح خالد پر یہ اتہام لگایا گیا کہ انہوں نے اس شادی کے ذریعہ سے عرب کے عادات و اطوار کی مخالفت کی ہے۔چنانچہ عقاد کا کہنا ہے کہ خالد نے مالک بن نویرہ کو قتل کر کے اس کی بیوی سے میدانِ قتال میں شادی کی جو جاہلیت اور اسلام میں عربوں کی عادت کے خلاف اور اسی طرح مسلمانوں کی عادات اور اسلامی شریعت کے حکموں کے منافی ہے۔عقاد کا یہ قول سچائی سے بالکل دور ہے۔عربوں کے ہاں اسلام سے قبل بہت دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ جنگوں اور دشمنوں پر فتح یابی کے بعد خواتین سے شادیاں کرتے تھے اور انہیں اس پر فخر ہوتا تھا۔ڈاکٹر علی محمد صلابی اس بارے میں لکھتے ہیں، یہ سارا واقعہ یہی بیان کر رہے ہیں کہ شرعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو خالد نے ایک جائز کام کیا اور اس کے لیے شرعاً جائز طریقہ اختیار کیا اور یہ فعل تو اس ذات سے بھی ثابت ہے جو خالد سے افضل تھے۔اگر خالد پر یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے جنگ کے دوران میں یا اس کے فوراً بعد شادی کی تو رسول الله صلى اللعلم نے غزوہ مریسیع کے فوراً بعد تجویریہ بنت حارث سے شادی کر لی تھی اور یہ اپنی قوم کے لیے بڑی بابرکت ثابت ہوئی تھیں کہ اس شادی کی وجہ سے ان کے خاندان کے سو آدمی آزاد کر دیے گئے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی ایم کے سسرالی رشتہ میں آگئے اور اس شادی کے بابرکت اثرات میں سے یہ ہوا کہ ان کے والد حارث بن ضرار مسلمان ہو گئے۔اسی طرح رسول اللہ صلی الیم نے غزوہ خیبر کے فوراً بعد صفیہ بنت حُيَى بنت اخطب سے شادی کی اور جب رسول اللہ صلی للی کم کا اس سلسلہ میں اسوہ اور نمونہ موجو د ہے تو عتاب اور ملامت کی کوئی وجہ نہیں۔514