اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 201
صحاب بدر جلد 2 201 حضرت ابو بکر صدیق کے لوگوں نے ایک دوسرے کو گرفتار کر لیا لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد مالک اور وکیع نے یہ محسوس کیا کہ انہوں نے اس عورت کی اتباع کر کے سخت غلطی کی ہے۔اس پر انہوں نے دوسرے سر داروں سے مصالحت کرلی اور ایک دوسرے کے قیدی واپس کر دیے۔اس طرح قبیلہ تمیم میں امن قائم ہو گیا۔اب یہاں سجاح نے جب دیکھا کہ اس کی دال گلنی مشکل ہے، جو مقصد لے کے آئی تھی وہ پورا نہیں ہو سکتا تو اس نے بنو تمیم سے بوریا بستر اٹھایا اور مدینہ کی جانب کوچ کر دیا۔نبانج کی بستی میں پہنچ کر اوس بن خزیمہ سے اس کی مڈھ بھیڑ ہوئی جس میں سجاح نے شکست کھائی اور اوس بن خزیمہ نے اس طرح پر اسے واپس جانے دیا کہ اس امر کا پختہ ارادہ کرے کہ وہ مدینہ کی جانب پیش قدمی نہیں کرے گی۔اس واقعہ کے بعد اہل جزیرہ کی فوج کے سردار ایک جگہ جمع ہوئے اور انہوں نے سجان سے کہا اب آپ ہمیں کیا حکم دیتی ہیں۔مالک اور وکیع نے اپنی قوم سے صلح کر لی ہے۔نہ وہ ہمیں مدد دینے کے لیے تیار ہیں اور نہ اس بات پر رضامند کہ ہم ان کی سرزمین سے گزر سکیں۔ان لوگوں سے بھی ہم نے یہ معاہدہ کیا ہے اور مدینہ جانے کے لیے ہماری راہ مسدود ہو گئی ہے۔اب بتاؤ ہم کیا کریں ؟ سجاح نے جواب دیا کہ اگر مدینہ جانے کی راہ مسدود ہو گئی ہے تو بھی فکر کی کوئی بات نہیں تم یمامہ چلو۔انہوں نے کہا اہل یمامہ شان و شوکت میں ہم سے بڑھے ہوئے ہیں اور مسیلمہ کی طاقت اور قوت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب اس کے لشکر کے سرداروں نے سجائح سے آئندہ اقدام سے متعلق دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ عَلَيْكُمْ بِالْيَمَامَهُ، وَدُفُوا دَفِيفَ الْحَمَامَهُ، فَإِنَّهَا غَزْوَةٌ صَرَّامَهُ لَا يَلْحَقُكُمْ بَعْدَهَا مَلَامَهُ كي يمامه چلو۔کبوتر کی طرح تیزی سے ان پر جھپٹو۔وہاں ایک زبر دست جنگ پیش آئے گی جس کے بعد تمہیں پھر کبھی ندامت نہ اٹھانی پڑے گی۔یہ مُسَجّع مُقَفی عبارت سننے کے بعد جسے اس کے لشکر والے وحی خیال کرتے تھے کہ نبی ہے۔اس کو وحی ہوئی ہے۔اس کے لیے ان کا حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ تھا۔اس کا حکم مانا۔497 مسیلمہ کذاب کا سجاح سے شادی کرنا سجاح جب اپنے لشکر کے ہمراہ یمامہ پہنچی تو مسیلمہ کو بڑا فکر پیدا ہوا۔اس نے سوچا کہ اگر وہ سجاح کی فوجوں سے جنگ میں مشغول ہو گیا تو اس کی طاقت کمزور ہو جائے گی۔اسلامی لشکر اس پر دھاوا بول دے گا اور ارد گرد کے قبائل بھی اس کی اطاعت کا دم بھرنے سے انکار کر دیں گے۔یہ سوچ کر اس نے سجان سے مصالحت کرنے کی ٹھانی۔پہلے اسے تحفے تحائف بھیجے۔پھر کہلا بھیجا کہ وہ خود اس سے ملنا چاہتا ہے۔اس نے مسلمہ کو باریابی کی اجازت دے دی۔مسیلمہ بنو حنیفہ کے چالیس آدمیوں کے ہمراہ اس کے پاس آیا اور خلوت میں اس سے گفتگو کی اور اس گفتگو میں مسیلمہ نے کچھ مسجع مقفی عبارتیں سجاخ کو سنائیں جن سے وہ بہت متاثر ہوئی۔سجانح نے بھی جواب میں اسی قسم کی عبارتیں سنائیں۔سجاح کو پوری طرح اپنے قبضہ میں لینے اور ہمنوا بنانے کے لیے مسلمہ نے یہ تجویز پیش کی کہ ہم دونوں اپنی نبوتوں کو یکجا کر لیں اور باہم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائیں ، شادی کر لیں۔سجاخ نے یہ مشورہ قبول کر