اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 167

اصحاب بدر جلد 2 167 حضرت ابو بکر صدیق ثبوت ہے۔یعنی خلافت پہ قائم ہونے والے یا خلافت کے ساتھ رہنے والے یہ مومن میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور یہ وہ حالت ہے جو خلافت کے نظام کے ساتھ جاری ہے اور جاری رہے گی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ دوسرا سوال زکوۃ کا تھا۔صحابہ نے عرض کیا کہ اگر آپ لشکر نہیں روک سکتے تو صرف اتنا کر لیجیے کہ ان لوگوں سے عارضی صلح کر لیں اور انہیں کہہ دیں کہ ہم اس سال تم سے زکوۃ نہیں لیں گے اور اس دوران میں ان کا جوش ٹھنڈ ا ہو جائے گا اور تفرقہ کے مٹنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے گی۔لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔یہ بات بھی نہیں مانی۔اس پر صحابہ نے کہا کہ اگر جیش اسامہ بھی چلا گیا اور ان لوگوں سے عارضی صلح بھی نہ کی گئی تو پھر دشمن کا کون مقابلہ کرے گا؟ مدینہ میں تو یہ بڑھے اور کمزور لوگ ہیں اور یہ صرف چند نوجوان ہیں وہ بھلا لا کھوں کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں ؟ حضرت ابو بکر نے جواب دیا۔اے دوستو! اگر تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ابو بکر اکیلا ان کا مقابلہ کرنے کے لیے نکل کھڑا ہو گا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ دعویٰ اس شخص کا ہے جسے فنونِ جنگ سے کچھ زیادہ واقفیت نہیں تھی اور جس کے متعلق عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ دل کا کمزور ہے۔پھر یہ جرآت، یہ دلیری، یہ یقین اور یہ وثوق اس میں کہاں سے پیدا ہوا۔اسی بات سے یہ یقین پیدا ہوا کہ حضرت ابو بکر نے سمجھ لیا تھا کہ میں خلافت کے مقام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہوا ہوں اور مجھ پر ہی تمام کام کی ذمہ داری ہے۔پس میرا فرض ہے کہ میں مقابلہ کے لیے نکل کھڑ ا ہوں۔کامیابی دینایانہ دینا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اگر وہ کامیابی دینا چاہے گا تو آپ دے دے گا اور اگر نہیں دینا چاہے گا تو سارے لشکر مل کر بھی کامیاب نہیں کر سکتے۔حضرت ابو بکر کے فیصلہ کے کیسے زبر دست نتائج پیدا ہوئے اس بارے میں بھی حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر نے صحابہ کی خلاف مرضی حضرت اسامہ بن زید کو لشکر سمیت مونته کی طرف روانہ کر دیا۔چنانچہ چالیس دن بعد یہ مہم اپنا کام پورا کر کے فاتحانہ شان سے مدینہ واپس آئی اور خدا کی نصرت اور فتح کو نازل ہوتے سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔435 پھر اس مہم کے بعد حضرت ابو بکر جھوٹے مدعیان کے فتنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اس فتنہ کی ایسی ایسی سرکوبی کی کہ اسے چل کر رکھ دیا اور یہ فتنہ بالکل ملیا میٹ ہو گیا۔بعد ازاں یہی حال مرتدین کا ہو ا۔اور صحابہ کبار بھی حضرت ابو بکر سے اختلاف کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ جو لوگ توحید اور رسالت کا اقرار کرتے ہیں اور صرف زکوۃ دینے کے منکر ہیں ان پر کس طرح سے تلوار اٹھائی جاسکتی ہے لیکن حضرت ابو بکر نے نہایت جرآت اور دلیری سے کام لیتے ہوئے فرمایا کہ اگر آج زکوۃ نہ دینے کی اجازت دے دی تو آہستہ آہستہ لوگ نماز روزے کو بھی چھوڑ بیٹھیں گے اور اسلام محض نام کا رہ جائے گا۔الغرض ایسے حالات میں حضرت ابو بکر نے منکرین زکوۃ کا مقابلہ کیا اور انجام یہی تھا کہ اس میدان