اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 115

محاب بدر جلد 2 115 حضرت ابو بکر صدیق جب رسول اللہ صلی علیم نے طائف میں ثقیف کا محاصرہ کر رکھا تھا تو آپ نے حضرت ابو بکر سے فرمایا اے ابو بکر ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ مجھے مکھن سے بھرا ہوا ایک پیالہ پیش کیا گیا مگر ایک مرغ نے ٹھونگا مارا تو اس پیالے میں جو کچھ تھا سب بہ گیا۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہیں سمجھتا کہ آپ آج کے دن ان سے جس چیز کا ارادہ رکھتے ہیں وہ حاصل کر لیں گے۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: میں بھی ایسا ہی ہوتا ہوا نہیں دیکھ رہا۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ کیا میں لوگوں میں کوچ کا اعلان نہ کر دوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ کریم نے فرمایا کہ کیوں نہیں تو حضرت عمر نے لوگوں میں کوچ کا اعلان کر دیا۔واپس جانے کا اعلان کر دیا۔2 غزوہ تبوک 312 رجب 19 ہجری میں ہوا۔اس کے بارے میں بیان ہے کہ تبوک مدینہ سے شام کی اس شاہراہ پر واقع ہے جو تجارتی قافلوں کی عام گزرگاہ تھی اور یہ وادی القریٰ اور شام کے درمیان ایک شہر ہے اسے اصحاب الایکہ کا شہر بھی کہا گیا ہے۔اس کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔313 حضرت ابو بکر غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی ایم کے ہمراہ تھے اور رسول اللہ صلی الم نے غزوہ تبوک میں بڑا جھنڈا آپ کو عطا فرمایا تھا۔314 حضرت ابو بکر نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنا جو گل مال آنحضرت صلی کم کی خدمت میں پیش کیا تھا اس کی مالیت چار ہزار درہم تھی۔315 رسول کریم صلی للہ ﷺ نے جب صحابہ کرام کو غزوہ تبوک کی تیاری کے لیے حکم دیا تو آپ صلی الی تم نے مکہ اور دیگر قبائل عرب کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ بھی آپ کے ساتھ چلیں اور آپ سی ایم نے امراء کو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور سواری مہیا کرنے کی تحریک فرمائی۔یعنی آپ صلی المیہ ہم نے اس بات کا انہیں تاکیدی حکم دیا اور یہ آپ کا آخری غزوہ ہے۔چنانچہ اس موقع پر جو شخص سب سے پہلے مال لے کر آیا وہ حضرت ابو بکر صدیق تھے۔آپ اپنے گھر کا سارا مال لے آئے جو کہ چار ہزار درہم تھا۔رسول اللہ صلی علیہ یکم نے حضرت ابو بکر سے دریافت فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے کہ نہیں؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کار سول چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمر بن خطاب اپنے گھر کا آدھا مال لے آئے۔آنحضرت صلی ا لم نے حضرت عمرؓ سے دریافت کیا کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ کے آئے ہو ؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ نصف چھوڑ کے آیا ہوں۔اس موقع پر حضرت عبد الرحمن بن عوف نے ایک سو اوقیہ پیش کیے۔یہ تقریباً چار ہزار درہم بنتے ہیں۔پھر آپ صلی علیہم نے فرمایا عثمان بن عفان اور عبد الرحمن بن عوف زمین پر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے خزانے نہیں جو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔انہوں نے بہت مال دیا۔اس موقع پر عورتوں نے