اصحاب احمد (جلد 9) — Page 82
وہی بات ہوئی کہ ع ۸۲ رسیده بود بلائے ولے بخیر گذشت پھر نہ کبھی کوئی سمن آیا نہ مجھے کسی نے طلب کیا نہ معلوم کیا تھا اور وہ معاملہ کدھر چلا گیا۔والدین کو ہمیشہ کے لئے مایوس کرنا ان آئے دن کے جھگڑوں سے تنگ آ کر اور والدین کے مال کے ضیاع کا خیال کر کے اور پھر اس خیال سے بھی کہ ضرور مجھ میں کوئی نہ کوئی نقص ہے ورنہ دشمن کو مجھ سے ہمیشہ کے لئے مایوس ہو جانا چاہئے تھا اس لئے مجھے اس قضیہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہئے۔میں نے دعائیں کر کے ایک مفصل خط والدہ محترمہ کی خدمت میں لکھا جس میں یہ تحریر کیا کہ آپ خود گواہ ہیں کہ میرے اسلام لانے کی کیا وجوہات ہیں۔کوئی دباؤ یا طمع یا بداخلاقی اس کی محرک نہیں بلکہ اسلام کی خوبیوں نے میرا دل فتح کر لیا ہے۔اس لئے آپ زیادہ سے زیادہ میرے جسم پر قابو پاسکتے ہیں سابقہ تجربہ ہی اس امر کے سمجھنے کے لئے کافی تھا کہ آپ ہزاروں روپیہ کئی سالوں میں خرچ کرنے کے باوجود مجھ پر قابو نہیں پا سکے۔اس لئے آپ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر راضی ہو رہئے۔بالفرض آپ لوگ مجھے پکڑ لے جانے میں کامیاب بھی ہو جائیں اور میرے جسم کے ٹکڑے کر کے ان کا قیمہ بھی بنا دیں تب بھی ہر ذرہ سے لا اله الا الله محمد رسول الله کی صدا بلند ہوگی۔اسلام میرے رگ و پے میں رچ چکا ہے۔جسم مغلوب ہو سکتے ہیں مگر قلوب نہیں۔خدا تعالیٰ کی قدرت کہ جب یہ خط پہنچا والد صاحب گھر پر نہ تھے اور والدہ صاحبہ نے کسی مسلمان سے خط پڑھوایا جس نے خط سنانے کا حق بھی ادا کر دیا۔اور خط ایسا موثر ثابت ہوا کہ وہ زار و قطار رونے لگیں۔اور اسی جگہ عہد کر لیا کہ آئندہ اس طریق کو قطعا ترک کردیں گے اور مجھے بہت معقول اور تسلی بخش جواب بھی دیا کہ اچھا بیٹا جیتے رہو۔تمہاری طرف سے ٹھنڈی ہوا آتی رہے جو ہونا تھا سو ہو چکا۔اب پر میشر سے تو لڑا نہیں جا سکتا۔سو اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ قضیہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔آپ کی شدید علالت پر والدہ صاحبہ کی قادیان میں آمد بعد ازاں میں بیمار ہو گیا اور باوجود با قاعدہ علاج معالجہ کے جو حضرت حکیم الامت جیسے حاذق اور