اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 59 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 59

۵۹ کر تجاہل عارفانہ کے رنگ میں دروازہ کے باہر سے بند ہو جانے پر افسوس کیا۔اور صاحب خانہ کے اصرار کے باوجود اندھیرے ہی اندھیرے روانہ ہو کر سویرے ہی سویرے اپنے منزل مقصود موضع بھا گو والہ غالباً چک نمبر ۶۲ جہاں ہم نے پہنچنا تھا ، پہنچے۔والد صاحب کا علاقہ پراثر یہ بھا گو والہ ضلع گورداسپور کے بھا گووال کے سکھ سردار یا زمیندار وہاں جا کر آباد ہوئے ہیں۔ان کے ساتھ ساتھ بعض ان کے کام میں مدد دینے والے مسلمان بھی گئے ہیں۔جن میں بعض بروالے اور چوکیدار کشمیری بھی تھے جو محترم برادران سیکھوانی کے رشتہ دار اور واقف کار بھی تھے۔یہ حلقہ پٹوار پانچ دیہات پر مشتمل تھا۔جو ز بر دست اور متعصب سکھوں کے تھے جن میں سے ایک دیہہ میں ایک مرکزی گوردوارہ اور ان کا مذہبی مرکز بھی قائم تھا جہاں والد بھی خاصا حصہ لیا کرتے تھے۔جس کے نتیجہ میں وہاں مذہبی لحاظ سے بھی محبت و عزت کی نظر سے دیکھے جانے کے باعث ان کا دوہرا اثر ورسوخ تھا اور اس پر ان کو حد سے زیادہ ناز تھا۔اور اسی کی طرف انہوں نے ڈچکوٹ پہنچ کر مجھے مخاطب کرتے ہوئے اشارہ کیا تھا۔اب والد صاحب کی ہر حرکت و سکون اور طرز وادا میں اپنا علاقہ ہونے مگر زیادہ تر اپنی کامیاب واپسی پر ایک فاتحانہ شان و شوکت کا اظہار ہور ہا تھا کیونکہ نصف سال کی متواتر دوڑ دھوپ اور تگ و دو کے بعد کئی ویرانے اور جنگلوں، سنسان بیابانوں کی خاک چھاننے ، بیسیوں شہروں ، درجنوں دیہات کی چھان بین اور ہزاروں روپیہ بے دریغ بہا دینے کے بعد وہ حصول مقصد میں کامیاب ہوئے تھے۔قادیان کی یاد قادیان ہاں مقدس اور پیاری بستی قادیان کی یاد کسی وقت دل سے محو نہ ہوتی تھی اور میں ہر وقت عالم خیال میں کوچہ ہائے دارالامان میں پھرتا رہتا تھا۔گو میں والد صاحب کی کڑی اور نہایت کڑی نگرانی میں ایک اسیر بے دست و پا کی مثال گرفتار و محبوس تھا اور ان کی مرضی کے خلاف چار قدم بھی ادھر ادھر نہ جاسکتا تھا۔ان مصائب کے پہاڑ تلے دبے ہوئے بھی میری روح اپنے آقائے نامدار کی مجلس میں پہنچ کر حضور کے کلمات طبیات سے مستفیض ہوتی اور حضور پرنور کی زبان فیض ترجمان سے