اصحاب احمد (جلد 9) — Page 58
۵۸ سرگردانی و سرزنی اور بھاری اخراجات کی وجہ سے مالی نقصان اور بربادی کے واقعات کے ذکر میں کوئی اخفاء نہ رکھا مگر میرے مسلمان ہو جانے اور قادیان پہنچنے کا ذکر تک بھی نہ کیا۔بلکہ اور ہی اور قصے میرے کسی چھا پہ خانہ میں ملازم ہو کر بڑا لائق کام کرنے والا اور نامور ماہر فن متصد بہن جانے کے افسانے سناتے رہے جن کے باعث کارخانہ دار مجھے چھوڑنا نہ چاہتے تھے اور کہ ان کو مجھے وہاں سے نکالنیمیں سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اسی اخفا کے خیال سے والد صاحب نے میرے ساتھ علیحدہ زیادہ دیر تک ٹھہر نا پسند نہ کیا تھا اور جلد مکان میں آگئے تھے کہ صاحب خانہ کو شبہ نہ ہو۔والد صاحب چونکہ متواتر ہفتوں سے سفر میں رہنے کی وجہ سے اور خصوصاً میرے پالینے کے بعد تین چاررات سے آرام کی نیند نہ سو سکے تھے۔باتیں کرتے سو گئے۔مگر مجھے اس تازہ زخم کی وجہ سے چین نہ پڑتا تھا گوتھ کان اور کوفت مجھے بھی بے حد تھی اور جسم میرا بھی آرام مانگتا تھا مگر دل کا درد بے قرار کئے دیتا تھا۔کروٹیں لیتا مگر کسی پہلو آرام نہ ملتا۔ع دل کی لگی بجھائے کون ؟“ خیالات کے تموج اور اجتماع سے دماغ خود پھٹنے کو تھا اس صورت میں بھلا نیند کی گنجائش کہاں ؟ اسی طرح قسماقسم کی ادھیٹر بن اور سوچ بچار میں رات کی گھڑیاں گن رہا تھا کہ پہلو کے کمرہ کے سکوت نے میرے دماغ کو کسی دوسری طرف پھیر دیا۔جس کے ساتھ ہی میں لڑکھڑاتے ہوئے اٹھا اور دروازے پر ہاتھ مارا کہ کھول کر نکل جاؤں مگر وائے قسمت کہ در بند تھا اور میں محصور۔ناچار کلیجہ پکڑ کر بیٹھ گیا اور سر تھام کر رہ گیا۔اور لا ملجا ولا منجا منك الا الیک کے ورد میں مصروف ہو گیا اور دل دعا کی طرف جھک گیا۔جس کے بغیر اور کوئی راہ کھلی نہ تھی۔مرغ سحر بولے جس سے رات کی آخری گھڑیاں معلوم کر کے اس فرصت کو غنیمت جانا اور کارساز حقیقی سے نیاز اور عرض حال میں مصروف ہو گیا۔سچ ہیمصیبت اور دکھ درد کی رات لمبی ہو جاتی ہے اور ختم ہونے میں نہیں آتی۔مگر یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جب درد میں لذت پیدا ہو جائے۔تو نہ درد در درہتا ہے اور نہ ہی اس کا زمانہ لمبا اور طویل معلوم ہوتا ہے بلکہ اس کا جلد ختم ہو جانا گونہ حسرت و تکلیف کا باعث ہوتا ہے اور ایک قسم کی پیاس اور تشنگی معلوم ہونے لگتی ہے۔میں ایک قسم کے ذوق اور لذت وسرور میں تھا کہ اذان کا روح پرور نغمہ کان میں پڑا۔جس سے میرے حواس میں تازگی کی لہر دوڑ گئی۔میں نے بصد بجز ونیاز وقت کا فریضہ ادا کیا۔اور آنے والے حالات کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لیا۔والد صاحب جاگے اور میرا دروازہ کھول