اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 39 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 39

۳۹ زمانہ میں لالہ بڈھا مل کی دو تین منزلہ دکان کے نچلے حصہ میں ایک آریہ سکول ماسٹر سمی سومراج کے ہاتھ میں ہوا کرتا تھا۔لالہ بڈھا مل کی دو عمارتیں بالمقابل اونچی اونچی پہاڑی دروازہ کے قریب کھڑی ہیں۔جو ریتی چھلہ نام میدان کی طرف ہے اور پوسٹ آفس مشرقی جانب کی دکان میں تھا۔اور صبح سویرے ہی سویرے سکول جانے سے پہلے وہ ماسٹر ڈاک روانہ کر دیا کرتا تھا۔میں منی آرڈر لے کر ڈاک خانہ پہنچا۔اور اس کے کھلے دروازہ کے سامنے کھڑا ہوا تو دیکھتا ہوں کہ میرے والد صاحب اس آریہ ماسٹر کے پہلو میں بیٹھے ہیں۔میں اس نظارہ سے جو اچانک پیش آیا ایک سکتے کے عالم میں تھا اور طبیعت نے ابھی فیصلہ نہ کیا تھا کہ قدم آگے اُٹھاؤں یا پیچھے کہ والد صاحب مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہو کر میری طرف بڑھے اور مجھ سے لپٹ گئے۔چھاتی سے لگایا اور پیار کیا۔دلا سا دیا اور میری تسلی کے لئے فرمانے لگے۔بیٹا ! تم نے جو کچھ کیا اچھا کیا۔جب تمہارے دل کو یہی بات پسند ہے تو کون روک سکتا ہے خوش رہو اور جہاں چاہو رہو۔مگر تم گھر سے آئے پھر اطلاع نہ دی۔ہم لوگ تمہاری تلاش میں سرگرادں پھرے۔سینکڑوں روپیہ بر باد ہوا۔تمہاری ماں روتے روتے اندھی ہوگئی اور تمہارے عزیز بھائی بہنیں جدائی کی وجہ سے بے تاب اور نیم جان ہیں۔ایک مرتبہ چل کر ماں کومل لو شاید اس کی بینائی بچ جائے اور بھائی بہنوں کو پیار کر لو کہ وہ بھی تمہارے نام کو ترستے ہیں۔“ وغیرہ وغیرہ۔والد صاحب بہت ہوشیار انسان تھے۔اس زمانہ کے مناسب حال زبان اور اردو میں ان کو خاص مہارت تھی اور بہت اچھے منشی بلکہ خوشنویس اور انشاء پرداز بھی تھے۔بعد کے حالات سے معلوم ہوا کہ والد صاحب قادیان میں ایک روز قبل کے آئے ہوئے تھے اور مقامی ہندوؤں اور آریوں سے جن میں سب سے زیادہ ڈپٹیوں کا گھرانہ جن کا مکان ان دنوں اللہ پاک کی عجیب در عجیب قدرت نمائی کا نمونہ ہو کر صدرانجمن احمدیہ کے دفاتر کی صورت میں کھڑا ہے اور غالباً یہی مدرس سومراج تھے مشورے اور منصوبے گا نٹھتے رہے تھے۔اور بعد میں معلوم ہوا کہ یہاں تک بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر اور کوئی صورت نہ بنی تو اس ابتدائی ڈاکخانہ کے متعلق روایات میں تفصیل دی گئی ہے اور ایک غلطی کی تصحیح بھی کی گئی ہے۔بقیہ حاشیہ: - وفات ہوگی۔چنانچہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ادھر لاہور میں حضرت مولوی شیر علی صاحب کا انتقال ہوا اور اُدھر دوسرے روز صبح آٹھ بجے جبکہ مرزا صاحب اخبار پڑھ رہے تھے اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے آپ کا انتقال ہو گیا۔آپ صاحب کشف والہام بزرگ تھے۔مگر اپنے کشف والہامات بہت کم بتانے کے عادی تھے۔