اصحاب احمد (جلد 9) — Page 430
۴۳۰ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ مَّا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ أَصْحَابُ الصُفَّةِ - وَمَا أَصْحَابُ الصُّفَّةِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ يُصَلُّونَ عَلَيْكَ دوسری بار کی وحی میں یہ کلمات بھی ہیں: رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَا دِيَايُنَادِى لِلِايْمَان ربنا امنا فاكتبنامع الشاهدين تیسری با روحی جولائی ۱۹۰۶ میں ہوئی جس میں کچھ کمی بیشی کے ساتھ یہ الفاظ بھی ہیں وَوَسِعُ مَكَانَكَ أَصْحَابُ الصُفَّةِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا أَصْحَابُ الصُفُّةِ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا - قدرے تشریح کے ساتھ ان تینوں کا یکجائی ترجمہ یہ ہے: یا درکھ کہ وہ وقت آتا ہے کہ لوگ تیری طرف کثرت سے رجوع کریں گے۔سو تجھے چاہئے کہ مخلوق الہی کی کثرت ملاقات کے وقت چیں بہ چیں نہ ہو اور تھک نہ جائے۔اور تجھے لازم ہے کہ اپنے مکانوں کو وسیع کرے اور تو ان لوگوں کو جو ایمان لائے یہ خوشخبری سنادے۔اور ان کو وہ سنادے جو تیرے رب کی طرف سے تجھ پر وحی ہوئی۔اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے تیرے حجروں میں آکر آباد ہوں گے۔وہی ہیں جو اللہ کے نزدیک اصحاب الصفہ کہلاتے ہیں۔اور تو کیا جانتا ہے کہ وہ کس شان اور کس ایمان کے لوگ ہوں گے جو اصحاب الصفہ کے نام سے موسوم ہیں۔وہ بہت قوی الایمان ہوں گے۔تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔وہ تیرے پر درود بھیجیں گے۔اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا! ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی ہے۔جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔اور وہ ایک چمکتا ہوا چراغ ہے۔اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے۔پس ہمیں بھی گواہوں میں رکھ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو : میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا۔اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا۔اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔خدا انہیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور علی حسب